خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 75

خطبات محمود اس کی طرف توجہ نہیں کی گئی ۔ ۷۵ سال ۱۹۲۹ء میں خیال کرتا ہوں مرکز نے بھی اس طرف توجہ نہیں کی ۔ مرکز کی طرف سے جو کتابیں شائع ہوتی ہیں یا تو ان کے چھاپنے میں بدانتظامی کے سبب ان کی قیمت زیادہ ہوتی ہے اور یا ویسے ہی قیمت زیادہ رکھ دی جاتی ہے اور اس وجہ سے ) سے لوگ کثرت سے ان کی اشاعت ہے اشاعت نہیں کر سکتے ۔ میں ان دو تین رسالوں کو مستثنی کرتا ہوں جو پچھلے دنوں شائع ہوئے یعنی نہرور پورٹ پر میرا تبصرہ اور میری ۱۷۔ جون کے جلسہ کی تقریر۔ یہ واقعی اتنے سنتے تھے کہ میرے نزدیک اتنا ستا شائع کرنا بھی خطرناک ہے۔ اس طرح حقیقتا کوئی نفع نہیں ہو سکتا اگر سو روپیہ پر سات یا آٹھ رو پیدہ نفع ہوا تو اشتہارات اور نوکروں کے اخراجات کو جو ان پر کام کرتے ہیں مدنظر رکھتے ہوئے اتنا نفع نقصان سے ہی تبدیل ہو جاتا ہے۔ پس ان رسالوں کو تو میں مستثنی کرتا ہوں اگر چہ ان میں بھی دوسری سمت کو اختیار کر لیا گیا ۔ مگر عام طور پر ہماری کتا بیں گراں ہوتی ہیں اور اس وجہ سے لوگ ان کی اشاعت نہیں کر سکتے ۔ اس کے لئے ایک طرف تو میں نظارت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ کتابوں کی قیمتوں پر نظر ثانی کرے اور قیمتیں ایسی حد پر لے آئے کہ ان انجمنوں کو جو ایجنسیاں لیں کافی معاوضہ بھی دیا جا سکے اور نقصان بھی نہ ہو اور دوسری طرف احباب کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بھی اس بارے میں فرض شناسی کا ثبوت دیں اس کے علاوہ اخباروں کی اشاعت ہے۔ جس طرح خاص دائرہ میں کتابیں بہت اثر کرتی ہیں اسی طرح ایک دائرہ میں اخبارات بھی بہت اثر کرتے ہیں۔ ہمارے کئی ایک اخبار ہیں الفضل، سن رائز ریویو انگریزی، اردو مصباح احمد یہ گزٹ یہ تو صدر انجمن کے اخبار ہیں ۔ ان کے علاوہ فاروق اور نور بھی ہیں۔ پھر بنگال اور سیلون سے بھی ہمارے اخبارات شائع ہوتے ہیں۔ ممکن ہے اور جماعتیں بھی شائع کرتی ہوں ۔ بعض جماعتیں ٹریکٹ شائع کرتی ہیں ان کی اشاعت کی طرف بھی میں توجہ دلاتا ہوں ۔ پچھلے دنوں الفضل اور سن رائز کی تعداد اشاعت بڑھ گئی تھی لیکن اب اس میں کمی واقعہ ہو گئی ہے ۔ دوستوں کو چاہئے کہ اپنے اپنے ہاں ایسے ایجنٹ مقرر کریں جو سلسلہ کی کتب اور اخبارات فروخت کریں اور خود بھی فائدہ اُٹھا ئیں ۔ تھوڑے ہی عرصہ میں ہمت کر کے الفضل اور سن رائز کی اشاعت کم از کم تین ہزار تک پہنچا دیں ۔ ان اخبارات سے سلسلہ کی تبلیغ میں بھی مددملتی ہے اور جماعت کی تربیت بھی ہوتی ہے۔ بعض اوقات کوئی غیر احمدی مجھ سے فتوئی پوچھتے ہیں تو مجھے حیرت : مجھے حیرت ہوتی ہے کہ انہیں مجھ سے XXXXXXXXXXXXXXX8 XXXXXXXXXXX