خطبات محمود (جلد 12) — Page 66
خطبات محمود 44 سال ۱۹۲۹ء مخالفین نے گالیاں دیں اس پر حکومت کو توجہ دلائی گئی مگر اس نے کوئی نوٹس نہ لیا اس کے جواب میں انہوں نے کہا چھوٹی چھوٹی جماعتوں کے احساسات کا ہم کہاں تک خیال رکھ سکتے ہیں جس کے معنے یہ ہوئے کہ جس کے پاس طاقت نہیں اس کے قلبی احساسات کا بھی کوئی احترام نہیں کیا جاسکتا۔ممکن ہے دنیا میں ایسے لوگ بھی ہوں اور ممکن کیا ایسے لوگ ہیں جن کا خیال ہے کہ دل دکھانا خواہ کمزور کا خواہ طاقتور کا بُرا ہے۔لیکن آج ایک کثیر طبقہ ایسا پیدا ہو گیا ہے جس کے نزدیک دل کا دُکھنا حیثیت پر منحصر ہے۔طاقتور کا دل دُکھانا ان کے نزدیک ناجائز اور کمزور کا دکھانا جائز ہے۔پولیس اکثر لوگوں پر ڈنڈے برساتی ہے لیکن کوئی پوچھتا نہیں کہ کیوں ایسا کرتی ہے۔لیکن لالہ لاجپت رائے کو ایک ڈنڈا لگ گیا تو اسمبلی میں اس کے متعلق سوالات کئے جاتے ہیں اور تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے حکومت ہر روز بیسیوں آدمیوں سے مچلکے لیتی ہے لیکن جب گاندھی جی سے لیا گیا تو ایک شور مچ گیا۔اگر مُجرم اپنی ذات میں بُرا ہے تو خواہ کوئی کرے سب سے یکساں سلوک ہونا چاہئے۔اگر ایک بجرم کے ارتکاب پر حکومت ایک کمزور سے تو مچلکہ لے لے لیکن جب گاندھی جی وہی جرم کریں تو انہیں چھوڑ دے تو اس کے یہ معنی ہونگے کہ جرم اپنی ذات میں بُرا نہیں بلکہ اس کا بُر ایا اچھا ہونا ارتکاب کرنے والے کی حیثیت پر منحصر ہے۔تو دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو طاقتور کا دل دُکھانا تو بُرا سمجھتے ہیں لیکن کمزور کا دل دُکھانے میں انہیں کوئی مضائقہ نہیں ہوتا۔ہماری جماعت چونکہ تھوڑی ہے اس لئے اس کا دل دُکھانے کی بھی مطلقا کوئی پرواہ نہیں کی جاتی۔گورنمنٹ بھی اس کے متعلق کوئی توجہ نہیں کرتی اور ہم خود بھی روک نہیں سکتے۔پس جہاں ہم اس قدر کمزور اور بے بضاعت ہیں۔اور ہمارے لئے سامانوں کی اس قدر کمی اور فقدان ہے کہ اپنے حقوق بھی نہیں لے سکتے وہاں ہمارے سامنے اتنا بڑا کام ہے کہ تمام دنیا کو فتح کرنا ہے نہ صرف دنیا کو بلکہ اہلِ دنیا کے دلوں کو فتح کرنا اور رسول کریم ہے اور قرآن کریم کی عزت ان کے دلوں میں قائم کرنا ہے۔ہمارے سامانوں کے مقابلہ میں یہ کام کس قدرا ہم اور عظیم الشان ہے۔ہمارے ملک میں مشہور ہے اکیلا چنا بھا ر نہیں پھوڑ سکتا جس کا مطلب یہ ہے کہ بڑے کاموں کے لئے بہت سی طاقت اور بڑی ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔اس میں شک نہیں کہ جو کام ہمارے