خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 53

خطبات محمود ۵۳ سال ۱۹۲۹ء پھوڑا جا سکتا ہے تو یہ اس کی حماقت ہو گی۔بانس کے غلط استعمال سے اگر ایک کا سر پھوٹا ہے تو ہزاروں انسان ایسے بھی ہیں جو اس سے مکان بنا کر اپنے سر چھپاتے ہیں۔اس طرح فائدہ تو اس سے بہت زیادہ اٹھایا جاتا ہے لیکن نقصان بہت ہی کم ہے اور خدا تعالیٰ نے تو فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے اگر کوئی شریر اس سے نقصان پہنچاتا ہے تو یہ امر خدا تعالیٰ کی حمد کے خلاف نہیں کہا جا سکتا۔پس الْحَمدُ لِلَّهِ میں مومن کو یہ بتایا گیا ہے کہ کسی چیز کو ایسا نہ سمجھ کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔دنیا میں گندی سے گندی چیز پاخانہ سمجھا جاتا ہے لیکن کسی زمیندار سے پوچھو یہ بھی کتنے فائدہ کی چیز ہے۔چند سال کسی کھیت میں ڈال کر دیکھو اس میں کتنی اعلیٰ درجہ کی فصل ہوتی ہے۔غرض اَلحَمدُ لِلَّهِ کہہ کر خدا نے بتایا کہ کسی چیز کو بے فائدہ نہ سمجھو اور کسی چیز سے گندہ کام مت لو۔مؤمن کو چاہئے ہر چیز کا اچھا استعمال کرے اور ایسا نہ کرے کہ ایک اچھی خاصی مفید چیز کو اپنے لئے وبالِ جان بنالے۔دیکھو رسہ ہے اس سے کتنے فائدے لئے جاتے ہیں، مال مویشی باندھے جاتے ہیں، گاڑیاں کھینچی جاتی ہیں، بوجھ اُٹھائے جاتے ہیں لیکن اس سے گلے میں پھندا ڈال کر لوگ خود کشی بھی کر لیتے ہیں۔اب اگر کوئی یہ کہے خدا نے یہ کیوں پیدا کیا جس سے میرے فلاں عزیز نے پھانسی لے لی تو وہ احمق ہے۔اسے بے شک نقصان پہنچا ہے لیکن اس نقصان کا باعث رستہ نہیں ہے بلکہ رستہ کا غلط استعمال ہے۔پس مومن کو ہر چیز سے فائدہ اُٹھانا چاہئے۔اگر کسی چیز کے فوائد سے ہم آگاہ نہیں تو پھر بھی ہم اس چیز کو بے فائدہ نہیں کہہ سکتے۔یہی کہہ سکتے ہیں کہ اس سے فوائد کا ابھی دنیا کو علم نہیں ہوا ہمارے ملک میں جن چیزوں کو ر ڈی سمجھ کر پھینک دیا جا تا تھا ان سے بھی یورپین لوگ فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔گھاس وغیرہ اور بانس سے نہایت قیمتی کاغذ بنائے جاتے ہیں اور ان سے کروڑوں روپیہ کا فائدہ وہ لوگ اٹھا رہے ہیں۔اسی طرح ہڈیاں ہیں۔ہمارے ملک میں انہیں بے کا رسمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے لیکن انگریز ہڈیوں سے بھی فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔اس سے نہایت عمدہ کھاد بنائی جاتی ہے۔پھر یہ کھانڈ صاف کرنے کے کام آتی ہیں۔ہندوستان میں انہیں رومی سمجھ کر پھینک دیا جاتا تھا۔پس رڈی سے روی چیز میں بھی خدا تعالیٰ نے بے شمار فوائد رکھے ہیں۔مومن کو کبھی یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ دنیا میں کوئی چیز بے سود اور خدا تعالیٰ کی حمد کے خلاف ہے۔اس کے تمام کام حکمت کے ماتحت ہوتے ہیں۔اگر کوئی کہتا ہے خدا تعالیٰ نے میرا بھائی مار دیا جو اچھا نہ ہوا تو اسے یہ بھی سوچنا چاہئے کہ اگر آدم سے لے کر آج تک جتنے لوگ