خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 535 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 535

خطبات محمود ۵۳۵ سال ۱۹۳۰ء کام سمجھتے تھے بلکہ فخریہ قصائد پڑھتے تھے کہ ہم نے فلاں لڑکی کو اغواء کر لیا اور لوگ ایسے شعر سُن کر سر دھنتے تھے اور شرفاء کی ایسی آرزوئیں ہوتی تھیں کہ ہم بھی کسی کی لڑکی کو اغواء کر کے لائیں ۔ اب دنیا میں کون ایسا عقلمند ہو سکتا ہے جو ان کو دنیا جوان کو دنیا کی راہ نمائی کے لئے چتا اور اگر قا اور اگر قابلیت کا امتحان ہوتا تو سب سے کم نمبر عرب کے لوگ حاصل کرتے مگر اللہ تعالی نے انہیں چُنا اور دیکھو انہوں نے دنیا میں میں کیسا عظیم الشان تغیر پیدا کر دیا۔ جن کے نزدیک پڑھنا ڑھنا لکھنا ہتک خیال کیا جاتا تھا انہوں نے تمام دنیا میں علوم کی اشاعت کی اور دنیا میں تقوی کی بنیاد انہیں کے ذریعہ رکھی گئی۔ ان کی ابتدائی حالت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایرانیوں نے عربی علاقہ پر حملہ کیا عرب بھی اس کے مقابلہ میں ایران پر حملہ آور ہوئے اور جب ایران کے بادشاہ کو علم ہوا کہ عرب فوجوں نے حملہ کیا ہے تو وہ بہت حیران ہوا کیونکہ وہ سمجھتا تھا عربوں کی کیا جرات ہے کہ ہماری زیادتی کے انتقام کا خیال بھی دل میں لاسکیں ۔ جیسے کوئی بڑا آدمی جب کسی چھوٹے پر تعدی کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ کمزور کا کوئی حق نہیں کہ میری چھیڑ کے بدلہ میں ہاتھ اٹھائے ۔ جب غرب ایران پر حملہ آور ہوئے تو وہ حیران ہوا کہ ان کی بھی یہ جرات ہے۔ اس نے عربوں کو بلایا اور وہ بصورت وفد اس کے پاس گئے ۔ اس نے کہا کیا تم پاگل ہو گئے ہو تم جانتے نہیں میں کون ہوں اور تمہاری کیا حقیقت ہے۔ عربوں نے اپنا ایک امیر مقرر کیا ہوا تھا جس نے جواب میں کہا کہ تم ہمیں کیا کہتے ہو ہم سے سنو کہ ہم میں کیا کیا عیوب تھے ہم میں ساری دنیا کی بُرائیاں تھیں مگر خدا تعالی کا ایک رسول ﷺ ہم میں پیدا ہوا جس نے وہ سب عیوب دھو ڈالے ۔ اس پر ایران کے بادشاہ نے کہا میں تم سب میں سے ہر ایک کو ایک ایک دینار دیتا ہوں دینا ر اس زمانہ میں اڑھائی یا تین روپے کا ہوتا تھا اور ہر ایک افسر کو اتنی اشرفیاں دیتا ہوں تم سب واپس چلے جاؤ۔ گویا وہ انہیں اس درجے ادنیٰ حالت میں سمجھتا تھا کہ اس قدر کم رقم لے کر راضی ہو جائیں گے اور واپس چلے جائیں گے مگر مسلمانوں نے جواب دیا چونکہ تمہاری طرف سے ابتداء ہوئی ہے اس لئے اب تلوار ہی فیصلہ کرے گی ۔ اس پر بادشاہ بہت غضب ناک ہوا ۔ اُس نے مٹی کا ایک بورا منگوایا اور امیر وفد کے سر پر رکھوا دیا ۔ انہوں نے اس کو نہایت احترام سے اُٹھایا اور کہا کہ ایران کے بادشاہ نے اپنے ہاتھ سے اپنے ملک کی زمین ہمارے سپرد کر دی ہے۔ مشرک لوگ تو شگونوں سے بہت گھبراتے ہیں یہ بات سن کر بادشاہ کو خیال آیا اور اس نے سپاہیوں کو کہا بھا گو اور ان سے مٹی چھین صلى الله