خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 534 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 534

خطبات محمود ۵۳ سال ۱۹۳۰ء اقوام کسی کو چھنتیں تو یہودیوں کو کبھی بھی خاطر میں نہ لاتیں۔اگر آج انہیں کہا جائے کہ دنیا کی نجات کے لئے کسی قوم کو منتخب کرو تو سانسیوں، تھیروں اور چوہڑوں کو کوئی بھی منتخب نہ کرے گا مگر ایک وقت اللہ تعالیٰ نے پتھیروں کو ہی چُنا اور پھر انہوں نے ایسی ترقی کی کہ دنیا کا نقشہ بدل دیا۔حکومت اور علم میں یہاں تک ان کو غلبہ حاصل ہوا کہ دنیا میں خیال کیا جانے لگا کہ نبوت اور حکومت ان کے لئے ہی ہے۔آج بھی اگر کسی مسلمان سے پوچھو کہ بڑے بڑے انبیاء کون ہوئے ہیں تو وہ فوراً حضرت ابراہیم حضرت موسی ، حضرت عیسی کا نام لے گا۔وہ چونکہ محمد رسول اللہ کو مانتا ہے اس لئے عربوں میں سے آپ کا نام لے گا۔مگر شروع اسی طرح کرے گا کہ یہودی نسل کے انبیاء کے نام گنائے گا کیونکہ انہوں نے بڑی ترقی کی تھی مگر دراصل وہ کون تھے وہ فرعونیوں کے پتھیرے ہی تھے۔ظاہری قابلیت ان میں اُس وقت کوئی نہ تھی اور ان کی حالت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ آج ہندوستانیوں کے وفد موتی لال نہرو اور مسٹر گاندھی وغیرہ لیڈروں کے پاس جا رہے ہیں کہ ملکی آزادی کے لئے کوشش کرو۔مگر ان کی آزادی کے لئے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوشش کر رہے تھے تو ان کا ایک ڈیپوٹیشن حضرت موسیٰ کے پاس گیا تھا جس نے کہا تھا ہمیں کیوں مصیبتوں میں ڈالتے ہو ہم آرام سے بیٹھے ہیں اسی طرح رہنے دو کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم نے دنیا میں کیا کرتا ہے جیسے اب ادنی اقوام کے لوگ ہیں وہ کہتے ہیں خدا نے ہمیں اسی حالت میں پیدا کیا ہے اسی طرح رہنے دو۔میں نے قادیان کے چوہڑوں کی ترقی کے لئے کئی بار کوشش کی مگر انہوں نے ہمیشہ مایوسی کا اظہار کیا اور ان میں کوئی حرکت نہ پیدا ہوئی۔یہی حالت بنی اسرائیل کی تھی مگر ان پر اللہ تعالیٰ کی نگاہ پڑی اور اُس نے فرمایا۔وَلَقَدِ اخْتَرْتُهُمْ عَلَى عِلْمٍ على العلمین۔صرف یہی نہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان میں قابلیت دیکھی۔بلکہ اسے معلوم تھا کہ ساری دنیا بلکہ کئی آئندہ زمانوں میں آنے والی اقوام سے بھی وہ بہتر ہیں اور پھر اس قوم نے صدیوں تک دنیا پر حکومت کی۔تو دیکھو خدا تعالیٰ کی دیکھی ہوئی قابلیت کیسی ثابت ہوئی۔محمد رسول اللہ اللہ کے زمانہ میں کون عرب کی قوم کو دنیا کی اصلاح کیلئے انتخاب کرتا جن کا دن رات کا مشغلہ شراب میں مست رہنا تھا اور جو خیال بھی نہیں کرتے تھے کہ دنیا میں اور بھی کوئی کام ہے۔لکھنا پڑھنا ان کیلئے عیب تھا ڈاکے ڈالنا ان کے نزدیک محبوب فعل تھا اور اغواء کو وہ بہت اچھا