خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 525 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 525

خطبات محمود ۵۲۵ سال ۱۹۳۰ء میں دوسرے کو امیر قرار دیتے ہیں وہ اس سے مالی حالت میں بہتر ہوتے ہیں مگر وہ کہتے ہیں کہ ہم غریب ہیں۔) تو بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ غریب ہیں اگر چہ وہ غریب نہیں ہوتے لیکن چونکہ اپنے آپ کو غریب سمجھتے ہیں اس لئے ان کے احساسات کی حالت غریبوں کی سی ہی ہوتی ہے اُن سے معاملہ کرتے وقت بھی رفق اور نرمی کا برتاؤ کرنا چاہئے شفقت اور محبت سے پیش آنا چاہئے اور کبھی کسی کو خیال نہ کرنا چاہئے کہ میں افسر ہوں۔افسری اسلام میں نہیں افسری نام ہے خدمت کا۔بے شک جس شخص کے ذمہ کسی کام کی ذمہ داری ہو اُس کا فرض ہے کہ اس کام کو بہتر صورت میں کرنے کا خیال رکھے اور اپنے اس فرض کو ہر بات میں مقدم کرے۔اگر اس میں کوئی روک ڈالتا ہے تو اسے دور کرے یا اگر کسی سے معاملہ کرنے میں وقت کا حرج ہوتا ہے تو اس سے علیحدگی اختیار کر لے لیکن بغیر دین کے کام کو نقصان پہنچائے لوگوں کے دلوں کے احساسات کا خیال رکھنا اور ان کے دلوں کو ٹوٹنے سے بچانا اس کا ایسا ہی فرض ہے جیسا کہ بھو کے کو روٹی کھلانا۔ہاں اگر کام میں روک پڑتی ہو یا حرج واقع ہوتا ہو تو اس کا فرض ہے کہ نرمی سے اور محبت سے اس پر ظاہر کر دے کہ وہ اس کا کام نہیں کر سکتا یا اس کی طرف توجہ نہیں کر سکتا یا اس کے رویہ میں اصلاح کی ضرورت سمجھتا ہے۔اسلام نے مساوات پیدا کی ہے اور جب تک ہمارے اپنے گھروں میں مساوات پیدا نہ ہو ہم دوسرے لوگوں میں کس طرح پیدا کر سکتے ہیں۔اسلام نہیں جو مساوات رکھی گئی ہے اس کے معنے یہی ہیں کہ کوئی ایسا رنگ نہ پایا جائے جو افسری اور ماتحتی امیری اور غریبی کے احساسات پیدا کرتا ہے۔جو کام کسی کے ذمہ لگایا جائے اس کا کرنا اس پر فرض ہوتا ہے اس لئے اس میں حرج واقع ہونے کے خیال سے بعض دفعہ کسی بات سے انکار بھی کرنا پڑتا ہے مگر اس میں سختی نہیں ہونی چاہئے۔میں اپنے متعلق ہی خیال کرتا ہوں اور اسی سے اندازہ لگا سکتا ہوں کہ کام کرنے والوں کو کیا حالات پیش آتے ہیں۔جتنے آدمی روزانہ مجھے پرائیوٹ طور پر ملنے کی خواہش کرتے ہیں اگر میں ان سب سے ملوں تو ایک منٹ بھی کوئی اور کام نہ کر سکوں۔اب میں دس میں سے دو کے ساتھ ملتا ہوں کیونکہ اگر سب کے ساتھ اتنی دیر ملوں جتنی دیر وہ چاہتے ہیں تو نہ میں ڈاک دیکھے سکوں نہ عبادت کر سکوں نہ سلسلے کے کاموں کی نگرانی کے لئے وقت نکال سکوں نہ کوئی اور کام کر سکوں ان کا موں کی وجہ سے دس میں سے آٹھ سے کسی نہ کسی بہانے سے انکار کرنا پڑتا ہے۔اس