خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 524

خطبات محمود ۵۲۴ سال ۱۹۳۰ء کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی بات سچی ہو گئی۔اب دیکھو اُس شخص نے ظاہری طور پر بڑی خدمت کی لیکن چونکہ اُس کے دل میں ایمان نہ تھا اس لئے یہ خدمت اُسے جہنم میں لے گئی۔وہ صحابی کہتے ہیں اس شخص کا انجام دیکھ کر میں دوڑا دوڑا رسول کریم ہے کے پاس آیا۔رسول کریم ہ اس وقت ایک مجلس میں بیٹھے تھے میں نے بلند آواز سے کہا۔اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ۔معلوم ہوتا ہے رسول کریم اللہ کو بھی اس وقت یہ انتظار تھا کہ جو بات میں نے کہی ہے اُس کی تصدیق ہونے والی ہے اس لئے آپ نے فرمایا۔أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاَشْهَدُ اَنّى رَسُولُ اللهِ - سے میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں خدا کا رسول ہوں۔غرض قلب کی حالت زبان کے اقرار یا اعمال پر مقدم ہوتی ہے۔یہ جو کچھ میں نے بیان کیا ہے یہ تو ایمان کے متعلق ہے۔اب کفر کے متعلق دیکھتے ہیں تو اس میں بھی قلب کی حالت کو زبان اور اعمال پر مقدم کیا گیا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے اگر کوئی مجبور ہو کر زبان سے کفر کا کلمہ کہہ دے لیکن اس کے دل میں ایمان ہو تو ہم اسے معاف کر دیتے ہیں۔ہے دیکھو ایسے شخص کے ظاہری جسم نے کفر کیا مگر اس کے دل نے کفر نہ کیا۔خدا تعالیٰ نے اسے گناہ تو قرار دیا مگر فر ما یا اسے ہم تو بہ سے دھو ڈالتے ہیں۔تو کفر کی حالت میں بھی اور ایمان کی حالت میں بھی قلب کی حالت مقدم سمجھی جاتی ہے۔پس جب خدا تعالیٰ نے دل کے احساسات کو کفر میں بھی مقدم رکھ ہے اور ایمان میں بھی تو کیوں سلوک میں انہیں ہم مقدم نہ رکھیں۔جب جسم اور زبان سے جو کہ ادرا ہیں، خدا تعالٰی نے اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے تو جو ان سے اعلیٰ ہے یعنی دل اُس سے کیوں اچھا سلوک نہ کیا جائے۔پس میں جماعت کے دوستوں سے خصوصاً اُن سے جن کے ذمہ سلسلہ کے کام ہیں کہتا ہوں کہ لوگوں کے قلوب کے احساسات کا خیال رکھیں۔محض دیانتداری سے کام کرنا اور لوگوں کے قلوب کی پرواہ نہ کرنا خدا تعالیٰ کے حضور بری نہیں قرار دے سکتا۔ہم کیسی ہی دیانتداری سے کام کریں پھر بھی خدا تعالیٰ لوگوں کے قلوب کی پرواہ نہ کرنے کے متعلق ہمیں پوچھے گا۔اس میں شبہ نہیں کہ جرم کم ہو گا مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ دلوں کے احساسات کا خیال نہ رکھنے کے متعلق رور پوچھا جائے گا۔میں نے بتایا ہے جو ماتحت ہوتے یا غریب ہوتے ہیں یا جو اپنے آپ کو غریب سمجھتے ہیں۔( میں نے دیکھا ہے کئی ایسے لوگ جو اپنے آپ کو غریب کہتے اور اپنے مقابلہ