خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 513

خطبات محمود ۵۱۳ سال ۱۹۳۰ء کہ نہیں سکتے اس لئے گھبرا کر اٹھ جاتے ہیں۔ یہ بات نہایت سادگی سے کہی جاتی ہے مگر ہوتی بالکل سچی ہے۔ وہ لوگ واقعی اس لئے اٹھتے ہیں کہ سمجھ نہیں سکتے مگر ان پڑھ احمدی ان پر رحم کھاتے ہیں یہ بے چارے سمجھتے نہیں حالانکہ درسی تعلیم حالانکہ درسی تعلیم میں وہ بڑھے ہوئے ۔ ئے ہوتے ہیں۔ یہ آج کی بات نہیں ہمیشہ سے یہی ہوتا آیا ہے کہ جب بھی کوئی نبی دنیا میں آیا اُس کا انکار کرنے والے روحانی باتیں سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں بلکہ انبیاء کی جماعتوں میں جو منافق طبع لوگ ہوتے ہیں وہ بھی نہیں سمجھ سکتے ۔ قرآن کریم میں آتا ہے جو مؤمن نہیں یا صرف ظاہراً مسلمانوں میں شامل ہیں وہ ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتے حتی کہ منافقوں کے سردار اور رئیس جب رسول کریم ﷺ کی مجال مجالس سے اُٹھتے تو کہتے ۔ مَاذَا قَالَ ائِفًا ؟ لے کچھ سمجھ میں نہیں آیا یہ کہ سمجھ میں نہیں آیا یہ کیا باتیں کر رہے تھے ۔ ابو ہریرہ جو ایمان لانے سے پہلے ایک بات بھی یاد نہ رکھ سکتا تھا وہ تو رسول کریم ہے ایک قیمتی موتی کی طرح اپنے دل میں محفوظ کر لیتا مگر عبداللہ بن اُبی بن سلول جسے مدینہ کے لوگ اپنا بادشاہ بنانے والے تھے رسول کے تھے رسول کریم ﷺ کی مجلس سے اٹا اسے اُٹھ کر کہتا کیا بات ہو رہی تھی کچھ سمجھ میں نہیں آیا ۔ ظاہ آیا۔ ظاہر میں تو وہ عالم تھا تھا اور ابو ہریرہ جاہل مگر باطن کی آنکھ ابو ہریرہ کو عطا ہوئی تھی ابی کو نہیں جس کی وجہ سے ابو ہریرہ تو ہر بات کو اچھی طرح سمجھ لیتے مگر ابی کو سمجھ میں کچھ نہ آتا۔ جمع ؟ الله ل سے جو کچھ سنتا اسے پس یہ بھی ایک نشان ہے جو جلسہ کے دنوں میں نظر آتا ہے کہ لوگ اتنی کثیر تعداد میں یہاں ہوتے ہیں جس کا کبھی وہم و گمان بھی نہ ہوس وہم و گمان بھی نہ ہو سکتا تھا اور پھر یہ نشان بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ جنہیں جاہل سمجھا جاتا تھا اس چشمہ سے اس شوق سے پیتے ہیں کہ دوسری قوموں کے پیاسے بھی اس طرح نہیں پی سکتے ۔ قادیان کے رہنے والوں کو خدا تعالیٰ نے اس دار کی حفاظت کا ذریعہ بنایا ہے جس کی برکت کے لئے وہ لوگوں کو جمع کر کے یہاں لاتا ہے۔ پس یہاں کی جماعت کے احباب کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ اس آنے والے دن کے لئے تیاری کریں، مکانوں والے مہمانوں کے لئے اپنے مکان دیں اور اس کے علاوہ اپنے اجسام اور اوقات بھی خدمت کے لئے پیش کریں۔ اور جو منتظمین ہیں انہیں میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ جیسا کہ میں نے متواتر کہا ہے کارکنوں کو کام سے پہلے مشق کرائیں ۔ دنیا میں سب جگہ پہلے کام کی مشق کرائی جاتی ہے مگر یہاں سمجھا جاتا ہے کہ اخلاص سے ہی کام ہو جائے گا ۔ بے شک اخلاص بہت اچھی چیز ہے مگر خدا تعالیٰ نے انسان کو ایسا بنایا ہے