خطبات محمود (جلد 12) — Page 3
خطبات محمود 1 نئے سال کے ساتھ نئی تبدیلی کی ضرورت سال ۱۹۲۹ء فرموده ۱۱ جنوری ۱۹۲۹ء ) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : گو آج وقت اس قدر ہو چکا ہے کہ خطبہ کا وقت نہیں رہا لیکن کچھ نہ کچھ خطبہ کے طور پر اپنی زبان میں بیان کرنا بھی چونکہ ضروری ہے اس لئے میں ان چند الفاظ پر اپنے خطبہ کو ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے ہمیں ایک نیا سال عطا فرمایا ہے ۔ یہ تو معلوم نہیں کہ یہ سال پورا کا پورا ہم میں سے کس کس کو ملے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے احسانوں میں سے ایک احسان ہے کہ اس نے ہم کو ایک نیا سال عطا فرمایا ۔ پس ہمارا فرض ہے کہ اس تحفہ تحفہ اور اور عظیم الشان تحفہ کے لئے جس کی قیمت دنیا کے تمام خزانوں سے بھی زیادہ ہے خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کریں۔ سال ایک پورا سال کوئی معمولی چیز نہیں، بارہ مہینوں کا سال، پھر باون ہفتوں کا سال، جن میں سے ہر ہفتہ میں سات سات دن اور ہر دن میں چوبیس گھنٹے ہوتے ہیں اور جن میں سے ہر گھنٹہ میں ساتھ منٹ اور ہر منٹ میں ساٹھ سیکنڈ ہوتے ہیں اور سیکنڈوں کی بھی آگے تقسیم ہو سکتی ہے ان میں سے صرف ایک سیکنڈ ایسا قیمتی ہے کہ تمام دنیا کے بادشاہ اپنا سب کچھ بیچ کر بھی اسے پیدا نہیں کر سکتے اور دنیا کی تمام دولتیں اور مال ومتاع اس کا لاکھواں حصہ بھی نہیں خرید سکتیں ۔ پس اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ اس کی قیمت کتنی بڑی ہو گی ۔ ایک عظیم الشان بادشاہ بعض تدابیر میں منہمک ہے اور اس کی سکیم پر اس کے ملک بلکہ تمام