خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 490

خطبات محمود ۴۹۰ سال ۱۹۳۰ء ہی ذریعہ ہو سکتا ہے جب بے انتہاء ذرائع ہوں تو پھر اُلجھن پیدا ہو جاتی ہے۔اگر روٹی کا لفظ صرف روٹی کے لئے ہی بولا جائے تو اس کا نام سنتے ہی ہر شخص سمجھ جائے گا کہ اس سے کیا مراد ہے لیکن اگر پانی کنواں جنگل درخت و غیرہ کئی ایک چیزوں کو روٹی کا نام دے دیا جائے تو کوئی بھی یاد نہیں رکھ سکے گا۔اور یہ حد پریشاں خواب من از کثرت تعبیر ہا کا معاملہ ہو جائے گا۔پس جب بہت سے اشارے ہوں تو انسان بھول جاتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ اشارے محدود ہوں اور یہ نہ ہو کہ ہر شخص اپنے لئے جو چاہے تجویز کرے پس یہ ظاہری حرکات وسکنات بھی اپنے اندر خاص فوائد رکھتی ہیں۔ای طرح روحانی شرائع میں بھی بعض احکام ایسے ہوتے ہیں جن کا بظاہر اور براہ راست کوئی خاص فائدہ نظر نہیں آتا مگر نہا لواسطہ طور پر خاص مواقع پر ان کے فوائد بہت ہوتے ہیں۔عام حالات کے ماتحت تو وہ بے حقیقت چیز ہوتے ہیں مگر خاص حالات اور اغراض کی بناء پر ان کے فوائد بہت ہوتے ہیں۔اگر کوئی شخص کہے کہ مجلس میں کوئی شخص بیٹھا ہو کوئی لیٹا ہو تو اس میں کیا حرج ہے تو ہم اسے کچھ نہیں کہہ سکتے اور بظاہر اس میں کوئی حرج نظر بھی نہیں آتا لیکن اس پر عمل کر کے دیکھو تو یہ بات خود بخو د طبائع پر ناگوار گزرے گی۔شرفاء کی مجلس میں کوئی شخص جنوب کی طرف پاؤں کر کے لیٹا ہو اور کوئی شمال کی طرف کسی کا منہ مشرق کی طرف ہو اور کسی کی پیٹھے تو ہر شخص اسے نا پسند کرے گا۔ایسی باتوں کا مخفی اثر انسان کی طبائع پر ہوتا ہے اور تشقت و پراگندگی پیدا ہوتی ہے کیونکہ جب ظاہری باتوں میں اتحاد نہ ہو تو باطنی امور میں بھی نہیں رہ سکتا۔اسی واسطے رسول کریم ﷺ نے تاکید فرمائی ہے کہ نماز میں صفیں ٹیڑھی نہیں ہونی چاہئیں اور کندھے سے کندھا ملانے کا حکم دیا ہے۔کیونکہ اگر ظاہری اتحاد نہ ہو تو دلوں میں بھی پراگندگی پیدا ہو جاتی ہے۔اب اگر کوئی کہے کہ اس طرح مل کر کھڑا ہونا کیا فضول بات ہے تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر کھڑا ہونا چاہئے تا ہوا گزر سکے تو بظاہر تو یہ معقول بات معلوم ہوتی ہے مگر رسول کریم ﷺ نے اسے پراگندگی کا موجب فرمایا ہے۔کیونکہ ظاہری اتحاد باطنی اتحاد کا ذریعہ ہے۔انگریزوں کو دیکھو اگر چہ اب تو حالات بدلتے جاتے ہیں مگر پھر بھی ایک انگریز دیسی جوتی سے سخت نفرت کرتا ہے مگر بوٹ سے نہیں۔اگر ایک کالا کلوٹا آدمی سر پر ہیٹ رکھ کر اور با قاعدہ سوٹ بوٹ پہن کر کسی انگریز کے صلى