خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 488

خطبات محمود ۴۸۸ سال ۱۹۳۰ اشیاء کی قیمتوں میں بھی بہت سا فرق ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص سر پر ٹوپی یا پگڑی کی بجائے جوتی رکھ لے اور پاؤں میں ٹوپی یا پگڑی باندھ لے تو اگر اس خیال کو ذہن سے نکال دیا جائے کہ دنیا کا عام دستور کیا ہے اور لوگ ان چیزوں کو کس طرح استعمال کرنے کے عادی ہیں تو مالی دینی یا اخلاقی طور پر اس میں کوئی نقصان نظر نہیں آتا مگر پھر بھی دنیا میں کتنے لوگ ہیں جو ایسا کرنے کے لئے تیار ہیں کہ پاؤں میں جرابوں کی بجائے رومی ٹوپی یا پگڑی باندھ لیں ۔ لیکن اگر ان سے پوچھا جائے کہ ایسا کرنے میں نقصان کیا ہے تو اس کا بھی کوئی جواب نہیں دے سکتے سوائے اس کے کہ یہ قوم کا رواج نہیں ۔ اور عام نقطہ نگاہ یہی ہے کہ ٹوپی یا پگڑی سر کے لئے ہے اور جوتی پاؤں کے لئے اور اس کے خلاف کرنا ایک لغوفعل ہے اور لغو کام کرنے والے کا وقت ضائع ہوتا ہے۔ پس یوں تو اس میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی لیکن اگر اسے لغو فعل بنا کر دیکھیں گے تو اس کے مضرات صاف طور پر نظر آ جائیں گے کیونکہ اگر اسی طرح سارے لغو کاموں کو جائز قرار دے لیا جائے تو انسان کی زندگی تہہ و بالا ہو جائے ۔ اسی طرح سپاہی کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ خاص قسم کا لباس پہننے پر مجبور ہے۔ اب اگر کوئی پوچھے کہ اس کی کیا ضرورت ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ خاص قسم کے لباس سے آدمی بہادر بنتا ہے یا اس سے زیادہ محب وطن پیدا ہوتی ہے یا پھر یہ کہ اس سے زیادہ پستی پیدا ہوئی ہے تو یہ بات بالکل غلط ہے ۔ کیونکہ جرمن سپاہی اپنے لباس میں ہی پست، بہادر اور محب وطن ہوتا ہے انگریز اپنے میں اور فرانسیسی اپنے میں حالانکہ ان لباسوں میں بہت بڑا فرق ہے ہر ایک کی وضع قطع جداگانا جدا گانہ ہے ۔ اپنے پھر سوال ہوتا ہے کہ لباسوں میں ایسے ان باسوں میں ایسے امتیازات کا کیا فا فائدہ ندہ ہے۔ جب جرمن سیاہی کے اندرا ۔ لباس میں ہی تمام ضروری خصوصیات موجود رہتی ہیں اور انگریز سپاہی کے اندر اپنے لباس میں اور ہوئے بھی سپاہیوں کے اندر بہادری، حب وطن اور چستی پیدا ہو سکتی جب مختلف لباسوں کے ہو ۔ ہوتے ہوئے۔ ہے تو پھر سپاہیوں کے لباس کے متعلق اس قدر پابندی کیوں کی جاتی ہے۔ اس نقطہ نگاہ سے تو یہ پابندی بے شک بے فائدہ ہے لیکن اگر اسے دوسرے نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے جو یہ ہے کہ ایک طرح کے لباس اور حرکات سے قوموں کے اندر قلبی اتحاد اور یگانگت پیدا ہوتی ہے تو اس کا بہت بڑا فرق نظر آ جائے گا ۔ پھر یہ بھی فائدہ ہے کہ ایک قسم کے لباس سے سپاہی اپنے ساتھیوں کو پہچان سکتا ہے لیکن اگر ایک لباس نہ ہو تو دوست دوست دشمن دشمن دین میں میں تمیز میر ہی نہ ہو ہو۔ سکے