خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 471

خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء مسلمانوں کی تعداد کم تھی یعنی وہ شرقی اضلاع سے پھوٹی تھی اور وسطی اضلاع میں پھیل گئی۔وہی حالت اب پھر پیدا ہو رہی ہے اور ہونے والی ہے۔وہاں اُسی طرح دیکھا جا رہا ہے جیسے سیندھ یا نقب لگانے والا اندازہ کرتا ہے کہ اسے کام کرنے کے لئے کون سی جگہ موزوں بیٹھے گی۔مسلمانوں کو قتل کیا جاتا یا ٹوٹا جاتا ہے تو یہ قتل انفرادی نہیں بلکہ اِن سے یہ دیکھا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کے اندر بیداری ہے یا نہیں۔کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ ٹو ہا نہ ضلع حصار میں دو شخص داخل ہو کر سر راہ کھڑے ہو جاتے ہیں اور ہر گزرنے والے سے دریافت کرتے ہیں کہ وہ ہندو ہے یا مسلمان۔ہندو کو گزرنے دیا جاتا ہے اور مسلمان کو قتل کر دیا جاتا ہے۔سات مسلمانوں کو متواتر بازار میں گولی کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن قاتل کو پکڑنے کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی۔کیا اس کے صاف معنی یہ نہیں کہ وہاں کے ہندوؤں کی ہمدردی دراصل قاتل کے ساتھ تھی۔یہاں قادیان میں اگر کبھی کسی ہندو کے ہاں چوری وغیرہ کی واردات ہو تو سب سے پہلے اس کی مد کو پہنچنے والے احمدی ہوتے ہیں۔وہاں اگر ہند و قاتل کے ہمدرد نہ تھے تو انہوں نے اسے پکڑنے کی کوشش کیوں نہ کی۔بیان کیا جاتا ہے کہ قاتل نے کئی ہندوؤں کو ہندو ہونے کی وجہ سے گزرنے دیا۔پھر کیا یہ اُس کے پاس سے گزرنے والے اسے پکڑ نہیں سکتے تھے جبکہ پاس والے شخص پر بندوق سے فائر نہیں ہو سکتا۔ان کا چپ چاپ سب کچھ دیکھتے رہنا اس امر کا بدیہی ثبوت ہے کہ مسلمانوں کو قتل کرنے کا شوق ان کے دلوں میں بھی اس قاتل سے کم نہ تھا۔اور قاتل وہی شخص نہیں جس نے فائر کئے بلکہ وہاں کے وہ سب ہندو جنہیں اطلاع ملی اور خاموش رہے اس واردات میں شامل ہیں۔اگر کوئی شخص اتفاقاً وہاں آ جاتا اور بے تحاشا گولیاں چلانی شروع کر دیتا اور اس طرح کچھ مسلمان بھی مر جاتے تو وہ اور صورت تھی لیکن ایک شخص آتا ہے اور ایک ہی دفعہ بے تحا شا حملہ نہیں۔کرتا بلکہ ٹھہر ٹھہر کر اور ہر شخص کی اچھی طرح دیکھ بھال کر کے صرف مسلمان کو مارتا ہے۔پھر وہاں سے جاتا ہے اور راستہ میں ایک مسلمان تحصیلدار اور ایک مسلمان چوکیدار کو تو ہلاک کر دیتا ہے لیکن ان کے ایک ہندو ساتھی کو چھوڑ دیتا ہے مگر کوئی اُسے پکڑنے کی کوشش نہیں کرتا۔یہ پہلا واقعہ نہیں دیر سے سُن رہے ہیں کہ اس علاقہ کے کئی ہندوؤں نے قسمیں کھا رکھی ہیں کہ جہاں بھی ان کا زور چلے مسلمانوں کو مار دیں گے اور وہاں اگے ڈگے واقعات آئے دن ہوتے بھی رہتے ہیں مگر مسلمانوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔میں سمجھتا ہوں مسلمان اخبارات چند ایک آرٹیکل لکھ دیں