خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 468

خطبات محمود ۴۶۸ سال ۱۹۳۰ء انہیں خدا تعالیٰ کا قائم مقام خیال کرتے ہیں کہ ان کی خواہش ہے کہ ہندو اپنی برکات سے انہیں مستفیض کریں احمدیوں کو نہ کریں ۔ وہ تنہا ہی ہندوؤں کے منظور نظر اور مقرب کہلائیں احمدیوں کا اس میں کوئی حصہ نہ ہ حصہ نہ ہو ۔ یا ہندوؤں کے مظالم ان کے نزدیک اس قدر پسندیدہ ہیں کہ وہ ہیں کہ وہ چاہتے ہیں ہندو اپنے جو روستم کے تیروں کے لئے انہی کو مخصوص کر لیں، ملازمتوں سے انہی کو نکالیں، بائیکاٹ انہی کا کریں احمدیوں کو ان مصائب و شدائد سے کوئی حصہ نہ دیں کیونکہ احمدی ان کے نزدیک مسلمان نہیں ہیں ۔ یہ لوگ ہیں جو اس اتحاد کے مخالف ہیں حالانکہ ہم نے کبھی کسی کی منت خوشامد نہیں کی مگر ان کی ساری کی ساری عمر ہی خوشامدیں کرنے میں بسر ہوئی ہے۔ وہ ہمیشہ منتیں کرتے رہے ہیں خواہ اپنوں کی یا غیروں کی ۔ ایسے لوگوں کو چھوڑ کر باقی مسلمانوں میں یہ خیال پیدا ہو گیا ہے کہ اتحاد ہونا چاہئے ۔ مگر سوال تو یہ ہے کیا صرف خیالات سے بھی کچھ ہو سکتا ہے خیالی پلاؤ سے انسان کبھی زندہ نہیں رہ سکتا اور خیالی روٹی خواہ کتنی لذیذ ہو پیٹ نہیں بھر سکتی ۔ بے شک اگر یہ خیال پیدا ہو گیا ہے تو ہمیں خوش ہونا چاہئے کہ شاید اس پر عمل بھی ہو جائے مگر فائدہ اُس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک یہ خیال عملی جامہ نہ پہن لے اور ہم جب تک غیروں کے مقابلہ میں متحد نہ ہوں گے یہ خیال کوئی نفع نہیں دے گا ۔ ہندوؤں کو ہم دیکھتے ہیں اگر ایک آدمی ان میں سے کہیں مارا جائے تو وہ اتنا شور مچاتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ کوؤں کی قطار کو کسی نے چھیڑ دیا۔ سارا ہند و عالم چیخ و پکار سے آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے لیکن مسلمانوں پر اگر کہیں مصیبت کا پہاڑ گر پڑے تو جانے دو سب فرقوں کے اتحاد کو ۔ ایک جگہ کے حنفی کے گلے پر اگر چُھری چل رہی ہو تو دوسری جگہ کے حنفیوں کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا ۔ پچھلے دنوں جب پشاور میں فساد ہوا اور بہت سی گرفتاریاں بھی ہوئیں تو میں نے چوہدری فتح محمد صاحب سیال کو وہاں بھیجا کہ جا کر جس حد تک ہو سکے مدد کریں ۔ یعنی جس حد تک لوگوں کا قصور سمجھیں انہیں سمجھائیں اور جس حد تک حکام کی زیادتی ہو انہیں توجہ دلائیں ۔ ہم نے ان لوگوں کی مدد بھی کی، چندہ بھی دیا گورنمنٹ کے آفیسروں سے ملاقاتیں بھی کیں اور پھر حکومت ہند سے بھی خط و کتابت کی لیکن چوہدری صاحب نے مجھے بتایا ان لوگوں میں جو سب سے بڑھا ہوا احساس تھا وہ یہی تھا کہ مسلمانوں نے ہماری مدد نہیں کی اور ہندوؤں نے کی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر اس سے کوئی بہت چھوٹا واقعہ بھی ہندوؤں میں ہوتا تو تمام کے