خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 467

خطبات محمود ۴۶۷ سال ۱۹۳۰ء کہلاتے مسلمان ہیں۔غیر اقوام والے جب مسلمانوں سے سلوک کرتے ہیں تو اسی لفظ کو مدنظر رکھ کر کرتے ہیں۔اگر وہ صلح کرتے ہیں تو سب سے اور اگر لڑائی کرتے ہیں تو سب سے۔اس لحاظ سے میں نے متواتر یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ سیاسی اور تمدنی لحاظ سے ہم دوسروں سے علیحدہ نہیں ہو سکتے۔پچھلے دنوں ایک صاحب نے تحریک کی تھی کہ احمدی علیحدہ نیابت کا مطالبہ کریں، شیعہ الگ اور سنی الگ۔دوسروں کے متعلق تو مجھے معلوم نہیں کہ اس تجویز کو انہوں نے کس نظر سے دیکھا لیکن میں نے اسے بہت بُری نظر سے دیکھا کیونکہ اس سے سوائے تفرقہ اور شقاق کو بڑھانے کے اور کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا تھا۔چاہئے تو یہ کہ جس حد تک ہو سکے اتحاد کا حلقہ وسیع کیا جائے اور اس لحاظ سے قرآن کریم نے تو اہل کتاب کا ایک حلقہ تجویز کیا ہے اور مشترکہ مقاصد میں انہیں متحد ہونے کی ہدایت کی ہے مگر بعض لوگوں پر یہ اتحاد بہت گراں گزرتا ہے خصوصاً ان لوگوں پر جو ہم سے علیحدہ ہو کر لاہور چلے گئے ہیں اور جنہیں لاہوری یا پیغامی غیر مبائعین کہا جاتا ہے۔ان پر تو یہ اس قدر شاق گزرتا ہے کہ اگر اتحاد کا نام بھی لیا جائے تو وہ فورا شور مچا دیتے ہیں کہ یہ فلاں کو کافر کہتے ہیں ان سے اتحاد کیونکر کیا جا سکتا ہے حالانکہ اس اتحاد کے معنے صرف یہ ہیں کہ ہندوؤں کے مقابلہ میں تمام مسلمان کہلانے والے ایک ہو جا ئیں کیونکہ اس لحاظ سے ہم سب مشترک ہیں۔لیکن جو اختلاف ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم کہتے ہیں خدا تعالیٰ سے جو ہمارا معاملہ ہے وہ تمہارا نہیں۔اور ان دونوں باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ہر جماعت کا یہ دعویٰ ہے اور ہونا چاہئے کہ ہمارا خدا تعالیٰ سے جو تعلق ہے وہ دوسروں کا نہیں ہم اس سے بہت زیادہ قرب رکھتے ہیں۔لیکن ہندو کونسی ایسی ہستی ہیں کہ ان کے متعلق مقابلہ کیا جائے کہ ہم ان کے زیادہ مقرب ہیں یا تم۔خدا تعالیٰ کی ذات ایسی ہے کہ اس سے تعلق میں مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور اس لحاظ سے ہم مقابلہ کرتے ہیں اور صاف کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے ہمارا جو تعلق ہے وہ تمہارا نہیں اور دوسرے بھی یہی کہتے ہیں۔لیکن ہندو کے مقابلہ میں اگر اس بات کو پیش جائے اور کہا جائے ہم ہندوؤں کے مقابلہ کے لئے احمدیوں کے ساتھ متحد نہیں ہو سکتے تو اس کے یہ معنی ہو نگے کہ ہندو ایسے بلند مقام پر ہیں کہ ہمارے ساتھ متحد نہ ہونے والوں کی خواہش ہے کہ ہندوؤں کا جو پیار ان سے ہونا چاہئے اس کے احمدی مستحق نہیں۔پس یا تو ایسے لوگ شرارت کے نتیجہ میں ایسی باتیں کرتے ہیں یا پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کو ان کے نزدیک ایسی تقدیس حاصل ہے کہ وہ