خطبات محمود (جلد 12) — Page 466
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء اپنے آپ کو علیحدہ روحانی مقام پر سمجھتا ہے اور اس میں کیا شبہ ہے ہرا ہر ایک یہی خیال کرتا ہے کہ جس مقام پر ہم ہیں وہ دوسروں کو حاصل نہیں وگرنہ کیوں نہ سب ایک ہی ہو جائیں ۔ پس ایک تو اللہ تعالیٰ کا سلوک ہوتا ہے اور اس میں ہر فرقہ ہر مذہب بلکہ ہر انسان دوسرے سے مختلف ہوتا ہے ۔ ایک ہی فرقہ اور عقیدہ کے مسلمانوں میں سے بھی کوئی دو شخص ایسے نہیں ہو سکتے جو اسلام اور روحانیت کے ایک ایک ہی مقام پر ہوں حتی کہ پیر مر پیر مرید سے مختلف ہوتا ہے اور مرید پیر سے ۔ مگر ایک ظاہری مقام ہے جس میں سب وہ لوگ شامل ہیں جو مسلمان کہلاتے ہیں ۔ صلى الله رسول کریم ﷺ بھی مسلمان نام میں : ن نام میں شامل ہیں اور اس زمانہ کے وہ شرابی کبابی مسلمان کہلانے والے بھی جن کے اندرا جمع صل الله علية کا در اسلام کے مغز کا کوئی بھی حصہ نہیں۔ خدا تعالیٰ نے محمد رسول الله نام بھی مسلم رکھا ہے اور تنگ اسلام بھی مسلم کہلا کہلاتے ہیں ۔ غرض نام کے اندر سارے کے سارے ہو جاتے ہیں کیونکہ نام کا تعلق انسانوں سے ہوتا ہے اور ان کے سا۔ سامنے روحانیت نہیں ہوتی اس لئے وہ ناموں کے لحاظ سے ہی فیصلہ کرتے ہیں ۔ روحانیت کے لحاظ سے فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کر سکتا ہے کیونکہ وہ خوب جانتا ہے کہ کون حقیقی مسلمان ۔ مسلمان ہے۔ دنیا کا یا کا تعلق ظاہر سے ہے۔ لوگ تو یہی دیکھتے ہیں کہ فلاں کہتا ہے میں مسلمان ہوں اس لئے وہ مسلمان ہے اور یہ غلط طریق نہیں ۔ دنیاوی لحاظ سے یہی اختیار کرنا پڑتا ہے بلکہ اسلام کی تعلیم یہی ہے کہ ایسا کرو۔ احادیث سے ثابت ہوتا ہے ہے۔ کہ بعض صحابہ نے کہا کہا فلاں فلاں شخص کہتا تھا میں مسلمان ہوں تو رسول رسول کریم کے ﷺ نے فرمایا جب وہ کہتا تھا میں مسلمان ہوں تو اس سے مسلمانوں والا معاملہ کرنا چاہئے تھا ۔ لے صلى الله پس ایک تو روحانی تعلق ہوتا ہے اور اس سے وابستہ امور کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے فیصلہ پر ہوتی ہے۔ لیکن وہ امور جن کا تعلق جسمانیات سے ہے ان کا فیصلہ نام کا فیصلہ نام اور اقرار قرار سے ہوتا ہے۔ اور اس شیعہ سنی ، بوہرے خوئے ئے خوبے شاذلی ظواہر بلکہ معتزلی بھی اگر اس وقت موجود نام کے لحاظ سے ८ ہوں، اہل قرآن، اہلحدیث غرضیکہ یہ ساری کی ساری اقوام کیونکہ یہ مذہب نہیں بلکہ اقوام ہیں مسلمانوں میں شامل ہیں ۔ اس لحاظ سے ایک معتزلی بھی ویسا ہی مسلمان ہے جیسا کہ ایک احمدی اور ایک حنفی بھی ویسا ہی مسلمان ہے جیسا کہ وہابی اور ایک چکڑالوی یا اہل قرآن بھی ویسا ہی مسلمان ہے جیسا کہ ایک ظاہری ۔ بے شک ان میں سے ایک تو قرآن کے ظاہری لفظوں کے پیچھے جا رہا ہے اور ایک حدیث کے ظاہری لفظوں کی اتباع ضروری سمجھتا ہے مگر سب کے سب XXXXXXX