خطبات محمود (جلد 12) — Page 463
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء جو حضور کی تعلیم کے خلاف ہو اور اس کی کوئی تاویل نہ ہو سکے تو اسے رد کر دینا چاہئے۔یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ تو بندہ کی بات کے احسن پہلو کو لے کر اس کے مطابق اس سے معاملہ کرے مگر انسان اس کے کلام کے ایسے معنی کرے جو اس کے محکم کلام اور اس کی صفات کے خلاف ہوں۔پس اللہ تعالٰی اور اس کے انبیاء کے کلام کے ایسے معنی کرنے چاہئیں جو اللہ تعالیٰ کی شان اور اس کے کلام کے منافی نہ ہوں۔حقیقی ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ جب کوئی ایسی بات پہنچے جو قرآن کریم یا آنحضرت کے فرمودہ یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی تعلیم کے خلاف نظر آئے اس کی حتی الوسع کوئی احسن تاویل کی جائے اور اگر کوئی ایسی تاویل نہ ہو سکے تو اسے درست نہ سمجھا جائے۔اور اگر ان کے کلام کے کوئی ایسے معنی ہوتے ہوں جو دوسری تعلیم کے خلاف ہوں تو ان کو رد کر کے ایسے معنی کئے جائیں کہ وہ دوسرے اصول کے مطابق ہوں۔اور اگر ایسے معنی نہ ہو سکیں تو انسان اپنی کمزوری کا اقرار کرے مگر خلاف عقل و سنت اللہ معنی نہ کرے۔تمام انسان غلطی کر سکتے ہیں لیکن ان کا قرض ہے کہ وہ اپنی غلطی کا اقرار اور اعتراف کریں اور کوئی ایسا طریق اختیار نہ کریں جو ادب کے خلاف ہو اور اللہ کے ساتھ محبت کے تعلق کو بڑھانے کی بجائے اس سے دُوری پیدا کرنے والا ہو کیونکہ اس کا بد نتیجہ انہیں کو بھگتنا پڑے گا۔وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ الأَ بِاهْلِهِ ( الفضل ۱۵۔جولائی ۱۹۳۰ء ) البقرة: ۶۴ فاطر: ۴۴