خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 461

خطبات محمود ۴۶۱ بچے کلام اور کچی تعلیم کے نتیجہ میں حرکت ( جسے لوگ حالت یا حال کہتے ہیں ) پیدا نہیں ہوتی بلکہ پہلے خشیت کی حالت اور پھر اطمینان پیدا ہوتا ہے۔اس پر ایک دوست نے کہا کہ ایک دفعہ رات کے وقت میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو فرش پر جوش سے لوٹتے ہوئے دیکھا تھا۔میں نے اُس دوست سے پوچھا کہ کیا آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے دریافت کیا تھا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں یا آپ نے خود ہی ایسا خیال کر لیا۔انہوں نے کہا میں نے حضور سے دریافت تو نہیں کیا تھا بلکہ خود ہی قیاس کر لیا تھا۔اُس دوست نے حضور کو اس حالت میں دیکھ کر خیال کر لیا کہ یہ حرکت فلاں وجہ سے ہے حالانکہ ممکن ہے کہ اُس وقت حضور کو پیٹ میں درد ہو یا اسی قسم کی اور وجہ پیدا ہوئی ہو۔غرض جب ایک شخص پر ایک خیال غالب ہوتا ہے تو وہ اس سے متأثر ہو کر خود ہی اپنے مذاق کے مطابق ایک معنی کر لیتا ہے۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتاب چشمہ معرفت میں آریوں کے اس اعتراض پر کہ قرآن کریم کہتا ہے کہ (حضرت ) عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر اُٹھائے گئے اور یہ بات قانونِ قدرت کے خلاف ہے۔جواباً فرمایا کہ اس میں کیا حرج ہے کیا خدا تعالیٰ کو اس بات کی قدرت نہیں کہ وہ ایک شخص کو زندہ آسمان پر اُٹھا لے حالانکہ آپ نے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات پر اور ان کے آسمان پر زندہ اُٹھائے جانے کے خلاف بہت زور دیا ہے اور فرمایا ہے کہ مسلمانوں کی تباہی کا ایک بہت بڑا موجب یہی عقیدہ ہوا ہے اور اسی وجہ سے مسلمانوں کی قوت عمل مار دی گئی اور ان میں عیسائیت کے ساتھ مخالفت اور اس سے وہ منافرت نہ رہی جو ہونی چاہئے تھی۔آپ کا آریوں کے جواب میں ایسا لکھنے کے معنی انہیں شرمندہ کرنا تھا کہ آریہ مذہب تو خدا تعالیٰ کی قدرت کا قائل نہیں۔مگر ہم ایسا کسی سائنس کی بناء پر نہیں کہتے بلکہ ہم قرآن کی بعض دوسری آیات کی رو سے کہتے ہیں کہ یہ خیال غلط ہے۔اگر ہم اس میں خدا تعالیٰ کی صفات کی کسر شان اور رسول کریم ﷺ کی ہتک نہ دیکھتے اور یہ بات قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف نہ ہوتی تو ہمیں حضرت عیسی علیہ السلام کو آسمان پر زندہ ماننے میں کچھ تامل نہ ہوتا۔پچھلے دنوں ایک خطبہ میں میں نے بتایا تھا کہ ایک شخص نے اپنے درس میں وَرَفَعْنَا فَوقَكُمُ الطُّور کے یہ معنے گئے ہیں کہ ہم نے طور کو اُٹھا کر تمہارے سر پر رکھ دیا ہے یہ معنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کے خلاف ہیں۔