خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 452

خطبات محمود ۴۵۲ سال ۱۹۳۰ء متو یہ طریق تفسیر کا اختلاف نہیں بلکہ سلسلہ کی روح سے اختلاف ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں سوائے اس کے کہ جماعت کے کمزور طبع لوگ ایک نیا مذہب بنا لیں خصوصاً عورتیں ۔ رسول کریم نے ایک مقام پر فرمایا۔ رُفِعَ لَنَا الصَّخْرَةُ ۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ آپ چلتے چلتے پہاڑی کے نیچے پہنچ گئے ۔ لیکن اگر اس کے معنے یہ کئے جائیں کہ پہاڑی کو چوٹی سے پکڑ کر سر پر رکھ دیا گیا تو کمزور طبع مرد اور عورتیں یہی سمجھیں گی ۔ انہیں کہاں معلوم ہوتا ہے کہ محاورہ عرب میں اس کے معنی کیا ہیں اور سنت اللہ کیا ہے ۔ اگر ایسی باتوں کو رواج دے دیا گیا تو جاہل لوگ ایسا ہی سمجھنے لگ جائیں گے کیونکہ قرآن کی مختلف آیات کا آپس میں تعلق، سنتِ الہی، مختلف تفاسیر اور عربی محاورات کو یا د رکھنا ان کے لئے اتنا آسان نہیں جتنا اس قسم کی بات کہ پہاڑ کو اُٹھا یا ا یا اور سر پر رکھ دیا لیکن اس کا نتیجہ سخت خطرناک ہوگا ۔ پھر ان معانی کو قرآن کریم بھی فرماتا ہے۔ چنانچہ فرمایا ۔ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ مِّنْ بَعْدِ ذَلِكَ اب کوئی شخص یہ تسلیم نہیں کر سکتا کہ اتنا بڑا نشان دیکھ کر بھی انکار کیا جا سکتا ہے۔ سورج کا انکار کوئی نہیں کرتا۔ معجزات میں ایک مخفی پہلو ہوتا ہے جسے بعض اتفاق کہہ دیتے ہیں اور اس طرح انکار کر دیتے ہیں۔ لیکن اگر طور اُٹھ کر سر پر آ جائے تو اسے اتفاق نہیں کہا جا سکتا کوئی بے وقوف سے بے وقوف بھی اسے اتفاق نہیں کہے گا ۔ کنکر مٹھی میں لیکر پھینکنے پر آندھی آ جانے کو تو بہانہ جو طبائع اتفاق کہہ سکتی ہیں اور شبہ پیدا کر سکتی ہیں کہ ممکن ہے پہلے ہی آندھی آ رہی ہو۔ لیکن پہاڑ کو اُٹھا کر رکھ دینے میں شبہ کی کیا گنجائش ہو سکتی ہے ایسی حالت میں تو کوئی شخص انکار کر ہی نہیں سکتا ۔ سب کے سب مان جائیں گے۔ لیکن یہ ایمان کوئی ایمان نہیں ایمان وہی ہوتا ہے جو غیب سے تعلق رکھتا ہے۔ مؤمن کا ایمان غیب سے اوپر نہیں ہوتا ۔ ایمان بالشهود صدیق اور شہید کے مقام پر پہنچ کر حاصل ہوتا ہے اس مقام سے نیچے ایمان بالغیب ہی ہوتا ہے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جو لوگ تھے ان میں سے تو بعض منافق بلکہ کافر بھی تھے ان کے لئے تو یہ نشان بالکل ہی عجیب تھا۔ لیکن قرآن میں ان کے متعلق جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معنے بالکل غلط ہیں ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے قَالُوا سَمِعْنَا وَ عَصَينا کے یعنی جب ہم نے ان سے عہد لیا کہ اس چیز کو جو ہم نے تمہیں دی ہے مضبوطی سے پکڑو تو انہوں نے کہا ہم نے اسے سن تو لیا ہے مگر مانیں گے نہیں ۔ اب کوئی عقلمند تسلیم نہیں کر سکتا کہ طور پہاڑ سر پر معلق ہو اور اللہ تعالیٰ کہہ رہا ہو کہ