خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 435

خطبات محمود ۴۳۵ سال ۱۹۳۰ء حاصل کر سکتے ہیں اس خبر کے پھیلنے سے معلوم ہوا ہے کہ گو ہمارا نظام وسیع ہے لیکن ایسی خبر کی صحت معلوم کرنے کے لئے اگر ہمارے پاس ذرائع ہوتے تو شاید دوستوں کو اس قدر پریشانی نہ ہوتی جواب ہوئی ہے۔ابھی ایک دوست نے سنایا کہ مجھے آج راستہ میں اس کی تردید ہوئی ہے۔اور اسی طرح باہر سے کئی ایک چٹھیاں اس کی صحت یا عدم صحت کے متعلق آج بھی وصول ہوئی ہیں اور کئی اصحاب ایسے بھی ہیں جن کو ابھی تک بھی کوئی اطلاع نہیں ہوگی اس لئے ہمیں چاہئے کہ جماعتوں کو ایسے مرکزوں میں تقسیم کر دیں کہ ہر جگہ فوراً اطلاع ہو سکے۔اصل مرکز قادیان سے ہر ایک کو اطلاع دینا بہت مشکل ہے۔اسی خبر کے متعلق اگر قادیان سے ہی تمام جماعتوں کو تار دیئے جاتے تو پانچ چھ ہزار روپیہ خرچ آجاتا لیکن اگر علاقے ایسی طرز پر تقسیم ہوں کہ جو بھی اطلاع جماعتوں کو دینی ہو اس کے متعلق ہر علاقہ کے مرکز میں تار دے دیا جائے۔اور وہاں سے والنٹیئر سائیکلوں پر یا کسی اور ذریعہ سے ارد گرد کے تمام مقامات پر فوراً اطلاع پہنچا دیں تو بہت جلد بات پہنچائی جاسکتی ہے۔اسی طرح اگر ایسا انتظام کر دیا جائے کہ ایسے موقع پر دوست مثلاً لا ہور میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے فون پر دریافت کر لیں اور ہر وقت وہاں ایک آدمی جواب دینے کے لئے موجود رہے تو بھی بہت سی پریشانی سے نجات ہو سکتی ہے۔یا پھر ایسی صورت میں خاص مقامات پر تار دیے جائیں اور باہر کی جماعتیں بجائے قادیان تار دینے کے وہاں تار دیگر دریافت کریں تو آسانی کے علاوہ جلد خبر معلوم ہو سکتی ہے۔قادیان ایک ایسی جگہ ہے جہاں تار لینے کے لئے صرف ایک آدمی ہوتا ہے اسی طرح راستہ میں بٹالہ میں بھی ایک ہی آدمی ہے۔اور اسی موقع پر معلوم ہوا اس نے عصر کے وقت کہہ دیا کہ میرے ہاتھ شل ہو چکے ہیں اس سے زیادہ تارمیں اب نہیں دے سکتا باقی کل دوں گا اور اس طرح کئی ایک تار نہ تو یہاں اس دن پہنچ سکے اور نہ ہی بھیجنے والوں کو کوئی جواب مل سکا کیونکہ راستہ میں بھیجنے والا صرف ایک ہی آدمی تھا۔اس لئے اگر ایسا انتظام ہو جائے کہ دہلی لاہور وغیرہ بڑے بڑے مقامات پر فوراً اطلاع یہاں سے دے دی جائے اور باہر کی جماعتیں بجائے قادیان سے تصدیق کرنے کے وہاں سے دریافت کریں تو بہت جلد جواب مل سکتا ہے کیونکہ بڑے سٹیشنوں پر بہت سے آدمی تار لینے والے ہوتے ہیں اور وہاں کوئی دقت پیش نہیں آتی۔پس ضرورت ہے کہ دفاتر ایسا انتظام کریں کہ جماعتیں مختلف حلقوں میں تقسیم ہو جائیں اور