خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 414

خطبات محمود ۱ سال ۱۹۳۰ء امور کے متعلق اتفاق رائے سے فیصلہ نہیں ہوتا تو اختلاف بہر حال رہتا ہے۔ پس اگر یہی اصول تسلیم کر لیا جائے کہ جس قانون سے اختلاف ہوا سے توڑنا جائز ہے تو دنیا میں امن کبھی نہیں ہو سکتا بلکہ ہمیشہ ہی بدامنی رہے گی۔ اگر گاندھی جی کو بھی مختار گل بنا دیا جائے تو بھی ان سے اختلاف رکھنے والے ضرور ہوں گے ۔ اور اگر اختلاف کی وجہ سے قانون شکنی جائز قرار دے دی جائے تو ملک میں کبھی امن و امان نہیں ہوسکتا لہذا یہ اصول غلط اور قطعاً غلط ہے ۔ افسوس ہے گلے کی خرابی کی وجہ سے میں زیادہ نہیں بول سکتا انشاء اللہ اگلے جمعہ کے خطبہ میں تفصیل سے بیان کروں گا ۔ لیکن جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواة والسلام کی تعلیمات پر پوری طرح عمل کرے اور انہیں ہرگز نظر انداز نہ کرے اور نہ صرف یہ کہ خود ان پر عمل کرے بلکہ دوسروں تک بھی پہنچائے ۔ ( الفضل ۳۰ مئی ۱۹۳۰ء ) یہ حضرت اُم سلمہ تھیں جن سے حضور نے مشورہ لیا۔ (تاريخ الأمم والملوك لابی جعفر محمد بن جریر الطبری جلد ۳ صفحه ۲۳۰ مطبوعہ بیروت لبنان ۱۹۸۷ء) حضرت زبیر (مرتب) بخاری کتاب المساقاة باب سكر الانهار تاريخ الامم والملوک لابی جعفر محمد بن جرير الطبري جلد ۳ صفحه ۔ ۳۳۱ مطبوعہ بیروت لبنان ۱۹۸۷ء