خطبات محمود (جلد 12) — Page 413
خطبات محمود ١٣ سال ۱۹۳۰ء تصرف اسی حکومت کو ہوتا ہے مگر اس کی بھی پرواہ نہیں کی جاتی۔رسول کریم ﷺ کے پاس دو شخص جھگڑتے ہوئے آئے اور اپنا مقدمہ پیش کیا آپ نے فیصلہ فرمایا یہ فیصلہ جس کے خلاف تھا اصل میں تو اس کے خلاف نہ تھا لیکن اس نے ایسا سمجھا۔جھگڑا اس بات پر تھا کہ ان میں سے ایک کے کھیت میں سے پانی گزر کر دوسرے کے کھیت میں جا سکتا تھا مگر وہ آگے نہیں جانے دیتا تھا۔آپ نے فیصلہ فرمایا کہ یہ اپنا کھیت جس قدر پانی سے چاہے بھرے اور پھر دوسرے کھیت میں جانے دے۔مگر وہ جوش میں آ گیا اور کہنے لگا آپ نے اپنے رشتہ دار کی رعایت کی ہے۔اسی طرح فتح مکہ کے بعد جب آپ نے اموال تقسیم کئے تو ایک انصاری نے کہا تقسیم میں انصاف نہیں کیا گیا۔رسول کریم والے کو جب یہ خبر ہوئی تو آپ نے انصار کو جمع کیا اور فر مایا اگر مجھ سے انے مجھ تمہیں انصاف نہیں مل سکتا تو اور کہاں سے ملے گا۔اگر چہ انہوں نے ایک فرد واحد کی حرکت قرار دیا اور اظہار ندامت کیا مگر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات مذہبی حکومت کے خلاف بھی طبائع جوش میں آ جاتی ہیں اور جوش میں وہ اس کے فیصلہ کو بھی غلط قرار دے دیتی ہیں۔پس دنیا کی کوئی حکومت ایسی کیونکر ہو سکتی ہے جسے سب لوگ بغیر جھگڑے کے مان لیں۔یہ بات قطعاً غلط ہے کہ جوش صرف بیرونی حکومت کے خلاف ہی ہوتا ہے اپنی حکومت کے خلاف نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اپنی بلکہ مذہبی حکومت کی مخالفت بھی کی جاتی ہے۔تو جب ہرحکومت کے خلاف یہ خیال ہو سکتا ہے کہ اس کا فیصلہ غلط ہے پھر اگر یہ اصول صحیح تسلیم کر لیا جائے کہ جس فیصلہ سے اختلاف ہو اُس کی نافرمانی کرنی چاہئے تو ہر جگہ یہی اصول کارگر ہونا چاہئے۔یہ تو ہم کسی سے نہیں کہہ سکتے کہ جب میں تمہیں ماروں تو تمہیں خاموش ہو جانا چاہئے لیکن اگر تم مجھے مارو تو میرا حق ہے کہ اس کے مقابلہ میں بہت زیادہ تمہیں ماروں یا عدالت میں لے جاؤں جو صورت بھی ہو گی دونوں کے لئے یکساں ہی ہونی چاہئے۔پس اگر یہ اصول صحیح تسلیم کر لیا جائے کہ جس قانون کو ہم نا جائز سمجھیں اسے توڑ دینا چاہئے تو ہر موقع پر یہی ہونا چاہئے اور اگر ساری دنیا پر یہی اصول جاری ہو جائے تو دنیا میں کتنا بڑا فساد پیدا ہو جائے گا۔فرض کرو ہندوستان کی اپنی حکومت قائم ہو جائے اور پارلیمنٹ کے ذریعہ قوانین بنیں تو یہ تو کبھی ہو ہی نہیں سکتا کہ سب کے سب متفق ہو جائیں انگلستان کی پارلیمنٹ کے متعلق ہم روز اخباروں میں پڑھتے ہیں کہ اگر دو سو ممبر ایک طرف ہیں تو ایک سو ایک طرف تو اتفاق رائے سے کبھی فیصلہ نہیں ہوتا۔یہاں ہماری مجلس شوریٰ میں بھی بعض