خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 397

خطبات محمود ۳۹۷ سال ۱۹۳۰ء کے لئے جاتا ہوں تو بغیرہ زرہ کے جاتا ہوں لیکن آج اتفاق سے میرے گرتہ کے نیچے زرہ تھی اور جب دشمن میرے سامنے ہوا تو میرے دل میں خیال آیا کہ موت وحیات کا تو کوئی پتہ نہیں ممکن ہے میں آج ہی مارا جاؤں اور اگر مر گیا تو خدا تعالیٰ کے سامنے جا کر کیا جواب دوں گا کہ میں اس کافر سے اتنا ڈرتا تھا کہ زرہ پہن رکھی تھی اس وجہ سے میں بھاگ کر آیا اور زرہ اُتار ڈالی ۔ اسباب سے فائدہ اُٹھانا بے شک شریعت کا حکم ہے مگر چونکہ آپ کے دل میں یہ وسوسہ پیدا اور لئے ڈر کر زرہ ہو گیا کہ یہ شرک نہ ہو اور کوئی یہ خیال نہ کرے کہ چونکہ مد مقابل زبر دست تھا اس پہن لی اس لئے آپ نے اسے اُتار دیا اور اس کے بغیر مقابلہ ر مقابلہ پر آئے اور خداز رخدا تعالیٰ کے فضل سے اُسے مار لیا۔ تو مؤمن موت سے نہیں ڈرتا اس کے سامنے صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جس بات کو لے کر وہ کھڑا ہوا ہے اسے پورا کر دے۔ اُحد کی جنگ میں ایک صحابی کے سخت زخمی ہو گئے آپ کی ٹانگیں اور ہاتھ شکستہ ہو گئے اور تمام ہڈیاں ٹوٹ گئیں ایک دوسرے صحابی جو زخمیوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے ان کے پاس پہنچے اور کہا آپ کی حالت نازک ہے اگر رشتہ داروں کیلئے کوئی پیغام دینا ہو تو دے دیں ۔ انہوں نے کہا میرے نزدیک آؤ اور اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیگر عہد کرو کہ میری قوم کو یہ پیغام پہنچا دو گے کہ میں نے اپنے فرض کو ادا کر دیا اور اب میں دنیا سے رخصت ہوتا ہوں مگر خدا کے رسول کو اپنے پیچھے دنیا میں چھوڑے جاتا ہوں اور شرافت اور ایفائے عہد کا واسطہ دیکر اپنی قوم کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ہر ایک قربانی کریں اور رسول کریم صلى الله سے ہرگز بے وفائی نہ کریں ۔ ہے غرض جو لوگ اللہ تعالی کے ہو جاتے ہیں ان کے مقصد کے راستہ میں وطن قوم دنیاوی جاہ و جلال اور بڑی سے بڑی طاقت کا خوف بھی حائل نہیں ہو سکتا ۔ ایک ہی چیز ہوتی ہے جو ان کی تمام توجہ کو اپنی طرف کھینچے رکھتی ہے اور وہ اس فرض منصبی کی ادائیگی ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ نے ان کے سپر د کیا ہوتا ہے خواہ اس کے لئے انہیں اپنا وطن عزیز واقارب بلکہ جان و مال بھی کیوں نہ قربان کرنے پڑیں ۔ پس ہماری جماعت کے دوستوں کو دلیری اور جرأت سے اس جبر و تعدی کا مقابلہ کرنا چاہئے جو کانگریس اختیار کر رہی ہے۔ جب تک یہ حالت نہ تھی ہمیں کانگریس کی تحریک سے ہمدردی تھی اور اب بھی ہم آزادی وطن کے جذبہ کے لحاظ سے کانگریسیوں سے کسی طرح کم نہیں ہیں مگر یہ جائز نہیں کہ خواہ کوئی اپنا ہو یا پرایا جبر سے کام لے۔