خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 389

خطبات محمود ۳۸۹ سال ۱۹۳۰ء جاتے ہیں مسلمانوں کے خلاف استعمال کئے جاسکتے ہیں اور ان کے اور معنی بھی ہندو کر سکتے ہیں۔اب یہی کہا گیا گیا ہے کہ اقلیتوں کی رضا مندی کے بغیر حکومت کے اختیارات دینے کا فیصلہ نہ کیا جائے گا۔پنجاب میں اقلیت ہندوؤں اور سکھوں کی ہے یہاں کے متعلق کہہ دیا جائے گا کہ ہندوؤں اور سکھوں کو راضی کر لیا جائے تب اختیارات دیئے جائیں گے اور ہندو اور سکھ یہ مطالبہ ، کر رہے ہیں کہ انہیں باوجود اقلیت میں ہونے کے مسلمانوں سے جو اکثریت میں ہیں زیادہ حقوق دیئے جائیں۔اسی طرح صوبہ سرحد اور بنگال میں ہندو اقلیت میں ہیں ان کو اُس وقت تک کچھ نہ دیا جائے گا جب تک ہندو رضا مند نہ ہو جائیں اور ہندو اسی طرح راضی ہوں گے کہ مسلمانوں سے زیادہ ان کو حقوق دیئے جائیں۔یہی حال سندھ کا ہے اسے بھی اسی اصول سے آزادی نہ دی جائے گی۔اُس وقت دنیا کانگریس کو حق بجانب قرار دے گی اور مسلمانوں پر ہنسے گی کہ انہیں کانگریس بیوقوف بنانے میں کامیاب ہو گئی۔غرض انہی الفاظ کی رو سے اگر ہندو پنجاب، بنگال، صوبہ سرحد اور سندھ کو کچھ نہ دیں تو یہ کانگریس کے الفاظ کے لحاظ سے ان کے لئے جائز ہوگا۔کیونکہ وہ کہیں گے یہی فیصلہ ہوا تھا کہ اقلیتوں کی رضا مندی کے بغیر کچھ نہ دیا جائے گا۔ان صوبوں میں اقلیتیں چونکہ مسلمانوں کو ان کی اکثریت کے لحاظ سے حقوق دینے پر تیار نہیں اس لئے نہیں دیئے جاتے۔اس کے مقابلہ میں جن صوبوں میں مسلمانوں کی اقلیت ہے وہاں مسلمان جتنا مطالبہ کر رہے ہیں اسے پورا کر دیا جائے تو بھی وہ اقلیت میں ہی رہیں گے اور حکومت ہندوؤں کے ہاتھ میں ہو گی۔مثلاً یو۔پی میں مسلمان تھیں فیصدی کا مطالبہ کر رہے ہیں اسے منظور کر لینے پر بھی حکومت اسی قوم کی ہوگی جس کے ہاتھ میں ستر فیصدی حقوق ہوں گے۔پنجاب میں اقلیت کہتی ہے کہ مسلمانوں سے زیادہ اسے حقوق دیئے جائیں مگر یو۔پی میں اقلیت کا یہ مطالبہ ہے کہ دس کی بجائے تمیں فیصدی حقوق دیئے جائیں۔ہندو کہیں گے چلو ہم یو۔پی میں مسلمانوں کو میں فیصدی حقوق دیتے ہیں پنجاب میں مسلمان اقلیتوں کا مطالبہ مان لیں اب غور کرو پنجاب اور یو۔پی میں مسلمانوں کو کیا ملا۔مدر اس میں مسلمان چھ فیصدی کی بجائے پندرہ فیصدی مانگتے ہیں۔ہندو کہیں گے اچھا پندرہ فیصدی ہی لے لو مگر پنجاب میں جب تک مسلمان ہندوؤں اور سکھوں کو راضی نہ کر لیں کچھ نہیں دیا جا سکتا۔اسی طرح بنگال کو کچھ نہ دیا جائے گا اور کہہ دیا جائے گا کہ وہاں کے ہندو جو اقلیت میں ہیں وہ راضی نہیں۔