خطبات محمود (جلد 12) — Page 372
خطبات محمود ۳۷۲ سال ۱۹۳۰ء آنکھوں کو نکالنے اور چہرہ کو نوچنے کی کوشش کرتے ہیں۔سلسلہ احمد یہ ایک الہی سلسلہ ہے اور الہی سلسلوں سے تو میں صلح کر کے نہیں رہا کرتیں۔جس سلسلہ کے ماننے والے ابتداء میں ہی پھولوں پر سے گزرتے ہیں وہ سلسلہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ کے پیارے ابتدائی حالت میں ہمیشہ کانوں پر سے ہی گزرتے ہیں اور اگر تم بھی اللہ کے پیارے ہو تو اُس وقت تک کہ تمہاری بادشاہت نہ قائم ہو جائے تمہارے راستہ سے یہ کانٹے ہرگز دور نہیں ہو سکتے اور تمہیں کبھی بھی امن و امان حاصل نہیں ہو سکتا اور اگر آج کسی وجہ سے سکھ ہے تو کل یقینا پھر ڈکھ کی حالت ہو جائے گی۔انگریزی حکومت پر ہمیں ایک حد تک حُسنِ ظن ہے لیکن اگر احمدیت سرعت کے ساتھ ترقی کرنے لگ جائے تو یہ حکومت بھی تم سے وہی سلوک کرنے لگے گی جو دوسری قومیں کر رہی ہیں۔اس لئے جب تک ہم تمام دنیا کے لوگوں کے اندر احمدیت کو نہ پھیلائیں اور ان کے نفوس میں نیک تبدیلی نہ پیدا کر یں اُس وقت تک ہمیں حقیقی امن نصیب نہیں ہوسکتا۔ہمارے دعوے خواہ کچھ ہوں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ تحمل و بردباری کی تعلیم میں ہم حضرت مسیح علیہ السلام سے بڑھ کر نہیں ہو سکتے کیونکہ ہم تو ضرورت کے وقت بدلہ لینا بھی جائز سمجھتے ہیں لیکن مسیح کی تو یہی تعلیم ہے کہ اگر کوئی ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا بھی اس کے آگے پھیر دولے اور یہ تعلیم خواہ کس قدر بھی خلاف زمانہ کیوں نہ ہولیکن اس میں کیا شبہ ہے کہ ایک مدت تک اس پر عیسائیوں کا عمل رہا ہے مگر کیا اس پر بھی انہیں امن نصیب ہوا۔کیا رومن حکومت نے عیسائیت کو آرام سے ترقی کرنے کا موقع دیا۔نہیں۔ہرگز نہیں۔بلکہ ہزاروں لاکھوں عیسائی جان سے مار دیئے گئے ان کو اپنے گھر بار اور جائدادیں وغیرہ چھوڑ کر غاروں میں زندگیاں بسر کرنی پڑیں کیونکہ اُس وقت یہ حالت تھی کہ جہاں کوئی مسیحی نظر آتا اُسے قتل کر دیا جاتا حتی کہ خدا تعالیٰ نے ان کی نصرت کی اور روم کا بادشاہ عیسائی ہو گیا اور عیسائیوں کو ان مظالم سے نجات حاصل ہوئی۔پس یہ خیال کہ ہم کسی سے لڑتے نہیں ہمارا بھی کوئی دشمن نہیں ہوسکتا غلط ہے کیونکہ جب مسیح کی اس قدر نرم اور بُردباری کی تعلیم کی موجودگی میں بھی عیسائیوں کو امن نصیب نہ ہوا تو ہمیں جن کا یہ اعتقاد ہے کہ کسی وقت بدلہ لینا بھی ضروری ہوتا ہے اس خیال سے مطمئن نہیں ہو جانا چاہئے کہ ہم کسی کا کچھ نہیں بگاڑتے اس لئے ہمیں بھی کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ہماری بھلائی کی صرف ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ تمام دنیا کو اپنا دشمن سمجھیں تا ان پر غالب آنے کی کوشش