خطبات محمود (جلد 12) — Page 350
خطبات محمود ۳۵۰ سال ۱۹۳۰ء آئے کہ بعض احمدی اتنے جو شیلے ہیں کہ اتنی سی بات پر کانسٹیبل سے مقابلہ شروع کر دیا۔ مجھے ان پر کوئی غصہ نہیں آیا جنہوں نے مقابلہ کیا تھا بلکہ میں نے کہا انہوں نے بالکل ٹھیک کیا ہے۔ اسے اتنا مارنا چاہئے تھا کہ جب تک وہ اس عورت سے معافی نہ مانگتا چھوڑا نہ جاتا اور میں نے کہا ابھی جا کر مجسٹریٹ سے جو اس موقع پر یہاں آیا ہوا تھا اور دوسرے افسروں سے صاف صاف کہہ دو کہ میں اس کا نسٹیبل کی حفاظت کا ہرگز ذمہ دار نہیں ہوں اور میں ہر احمدی سے امید رکھتا ہوں کہ وہ اسے نہ چھوڑے جب تک وہ اس عورت سے معافی نہ مانگ لے ۔ آخر افسروں نے اس کی بیٹی اُتار لی اور اسے فی الفور یہاں سے نکال دیا۔ میں نے اس وقت یہ خیال ہرگز نہ کیا کہ جس کی ہتک کی گئی وہ گاؤں کی ایک معمولی حیثیت کی زمیندار عورت ہے بلکہ اس معاملہ پر بہت سخت نوٹس لیا۔ لیکن یہ میرا اپنا معاملہ ہے اور میں نہیں چاہتا کہ آئندہ زمانہ میں یہ بات کہی جائے کہ میں نے کسی وقت قانون شکنی کو جائز سمجھا ۔ یہ تو بڑی بات ہے کہ اس کی تحریک کی ۔ میں اخلاق کی موت کو بداخلاقی کی زندگی پر ترجیح دیتا ہوں ہاں اگر کسی اور احمدی عورت کی عزت کا سوال ہوتا تو میں گورنمنٹ کے ایسا پیچھے پڑتا کہ گورنمنٹ مجبور ہو کر توجہ کرتی ۔ یاد رکھو کہ تو میں اپنی عزت خود قائم کرایا کرتی ہیں اور اگر آپ لوگ اپنے دماغوں پر ذرا سا زور دیں اور تھوڑا سا غور کریں تو ایسے طریق سوچ سکتے ہیں جن پر حمل پر عمل کر کے انون کی حدود کے اندر رہتے ہوئے بھی آپ اپنی عزت قائم کر سکتے ہیں ۔ اور گورنمنٹ کو مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ اس معاملہ میں دخل دے اور کوئی وجہ نہیں کہ نہ دے۔ جب تک کہ اس کے چھوٹے افسر اسے فریب نہ دے رہے ہوں اور دھوکا میں نہ رکھ رہے ہوں ۔ اس کے بعد میں ایک اور بات کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔ گزشتہ جمعہ میں عین اُس وقت جبکہ میں خطبہ پڑھ رہا تھا کسی شریر نے کھڑکی کے پاس کھڑے ہو کر باتیں سننے کی کوشش کی اس پر بعض دوستوں نے اسے روکا اور چلے جانے کو کہا لیکن وہ نہ ہٹا ۔ اس پر ایک شخص نے نیچے اُتر کر اسے یہاں سے ہٹا دینے کی کوشش کی اور سنا گیا ہے کہ ایک دو اور آدمی بھی نیچے اُتر گئے اور کچھ شورش سی ہو گئی ۔ اس پر میں نے کہا کہ اپنے آدمیوں کو پکڑ لاؤ اور چونکہ اس منتفی کا یہاں آ کر مداخلت بیجا کا ارتکاب کرنا اور خصوصاً اس صورت میں کہ خطبہ میں بھی انہی لوگوں کی حد سے بڑھی ہوئی دلآزاریوں کا ذکر ہو رہا تھا بہت ہی اشتعال انگیز حرکت تھی اس لئے میں نے بعض XXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXX