خطبات محمود (جلد 12) — Page 340
خطبات محمود م سال ۱۹۳۰ء اس طرح عمل کرو کہ اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہو جائے ۔ جماعت کے اندر سے منافقت کا نشان مٹا ڈالو وگر نہ بے جا جوش کے ماتحت کام کرنے میں مجھے کسی کی مدد کی احتیاج نہیں ۔ میں خاندانی طور پر نہ کسی بادشاہ سے ڈرتا ہوں اور نہ کسی حکومت سے ایسے کاموں کے لئے مجھے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں لیکن مجھے احمدیت نے روکا ہوا ہے اس لئے میں کسی کو بھی ایسے کاموں کی صلى الله بننا اچھا ہے اجازت نہیں دے سکتا ۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے ظالم بننے کی بجائے مظلوم بننا ام اس لئے اس قسم کی باتوں کی طرف میں کسی کو نہیں بلاتا۔ میں خود ایسا غیرت مند ہوں کہ اگر اسلام قانون شکنی سے نہ روکتا تو میں اپنی ذات کے لئے اور کسی کو آواز نہ دیتا اور نہ ہی اس کے لئے مجھے کسی کی مدد کی احتیاج ہوتی۔ اور میں سمجھتا ہوں یہ باتیں بھی خدا تعالیٰ نے میرے سر سے دوسروں کا احسان اُتارنے کے لئے پیدا کی ہیں ۔ جب جب کوئی انسان خلافت پر ير متمكن۔ من ہوتا ہے تو اُسے دینی اغراض کے ماتحت کئی لوگوں سے کام لینے پڑتے ہیں اس لئے مجھے اللہ تعالی نے یہ گالیاں دلوائیں کہ وہ احسان اُتر جائے ۔ گالیاں مجھے آپ کے لئے ہی سننی پڑتی ہیں اپنی ذات کی وجہ سے نہیں ۔ میری زندگی میں بعض دشمن میرے متعلق ان باتوں کو سُن کر حسد کی وجہ سے خوش ہوتے ہیں لیکن آئندہ نسلیں ان پر لعنتیں کریں گی اور یہ قیامت تک اسی طرح ملعون سمجھے جائیں گے جس طرح یزید ابو جہل یا فرعون ۔ اور خدا تعالیٰ کی ازلی اور ابدی لعنت ان پر پڑے گی ۔ وہ اپنی زندگیوں میں ہی خدا تعالیٰ کے غضب کے نشان دیکھ لیں گے اور ایک لعنت تو ظاہر ہو چکی ہے کہ اس فتنہ کی ابتداء میں یہ لوگ دعوی کرتے تھے کہ ہم مسیح موعود کو مانتے ہیں لیکن آج یہ حالت ہے کہ سیالکوٹ کے ضلع میں انہوں نے صداقت مسیح موعود پر احمد یوں سے مباحثہ کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نا پاک اعتراض کئے ۔ کیا خدا تعالیٰ کے مامور کا انکار لعنت نہیں ۔ مباہلہ کا نشان ان کے لئے ظاہر ہو گیا کہ ان کے ایمان سلب ہو گئے ۔ صداقت کی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس سے ایمان بڑھتا ہے لیکن جھوٹ ایمان کو ضائع کر دیتا ہے۔ میری صداقت پر خود ان کی کارروائیوں سے مہر ہو گئی اور مباہلہ کا نشان پورا ہو گیا ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایمانی موت دے دی ۔ جسمانی باقی ہے وہ بھی إِنْشَاء اللہ آسمانی عذابوں کے ساتھ ہوگی ۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ قادیان میں شاید سارے ہی منافق رہتے ہیں لیکن یہ ان کا خیال غلط ہے صرف ایمان کی وجہ سے اور اسلام کے احکام کی پابندی کے باعث کوئی کچھ کر نہیں سکتا ورنہ