خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 291

خطبات محمود ۲۹۱ سال ۱۹۳۰ء جاٹ یا پہلے گاؤں میں یہ تحریک نہ تھی لیکن اب دیہاتوں میں بھی تنظیم کی جا رہی ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ بنیوں کو بھی جنگجو قوم بنا دیا جائے ۔ ہندوؤں کی باقی قو میں پہلے ہی جنگجو ہیں ۔ ہی جن جو ہیں ۔ ہندوستان میں چھوٹے چھوٹے ہندو راجے مسلمان بادشاہوں کے ساتھ کئی کئی سال تک متواتر جنگ کرتے رہے ہیں اور دراصل مسلمانوں میں جوج جو جنگجو اقوام ہیں وہ بھی ہندوؤں میں سے ہی آ ہی آئی ہیں ۔ جار راجپوت عرب سے نہیں آئے یہیں کے باشندے ہیں اور ان کے بہت سے بھائی بند ا بھی ہندو ہیں۔ مدراس کے ہندو ہمیشہ فوجوں میں بھرتی کئے جاتے ہیں پھر مرہٹے ہیں غرضیکہ ہندوؤں کی لڑنے والی قو میں بہت ہیں اور تعداد میں مسلمانوں سے بہت زیادہ ہیں ۔ پس جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم لڑ کر ہندوؤں کو یہاں سے نکال دیں گے وہ بہت بیوقوف ہیں ۔ ہندوستان میں عربی النسل مسلمان تو چند ہزار ہی ہوں گے۔ جن مسلمان قوموں پر جنگ کے وقت انحصار کیا جا سکتا ہے وہ سب ہندوؤں سے ہی آئی ہیں اور ان کے ہندو بھائی ابھی تک اسی طرح بہادر نہیں جیسے یہ مسلمان ۔ اگر مسلمان جاٹ اور راجپوت لڑنے والے ہیں تو ان سے بہت زیادہ تعداد میں ہندو جاٹ اور راجپوت موجود ہیں ۔ پس چند ایک بٹیوں کو دیکھ کر ہندوؤں کو کمزور سمجھ لینا ایک خلاف عقل بات ہے۔ حالانکہ اسی قسم کی قو میں مسلمانوں میں بھی ہیں مثلاً مثلاً لوگ ہیں ذرا سی ہشت کرو تو بھاگ جائیں گے ۔ تو بز دل دونوں میں ہیں اور بہادر بھی دونوں میں ہیں ۔ لیکن تعداد کے لحاظ سے ہندو مسلمانوں سے تین گنا زیادہ ہیں اس لئے ایسا خیال نہ صرف یہ کہ بد دیانتی اور غداری ہے بلکہ خلاف عقل اور صریحاً غلط بھی ہے۔ تھوڑے سے مرہٹوں نے شاہان مغلیہ کا ناک میں دم کر دیا تھا۔ ایک طرف وہ میسور کو تنگ کر رہے تھے اور دوسری طرف حیدر آباد کوشتی کہ انہوں نے دہلی میں آکر بادشاہ کو قید کر لیا اور تخت پر قابض ہو گئے ۔ آخر یہ وہی مسلمان ہیں نا جن پر تھوڑے سے سکھوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ پس غور کرنا چاہئے کہ کیا اب وہ ہندو موجود نہیں ہیں ۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ مسلمان لڑنے والے نہیں بے شک مسلمان جنگجو ہیں اور بہادر بھی ہیں مگر کہتے ہیں جنگ دو سر دارد ۔ اول تو ہندو ان کے مقابل میں ویسے ہی بہادر ہیں پھر ان کی تعداد زیادہ ہے اور : یادہ ہے اور جنگ میں اپنی فتح پر کون یقین کر سکتا ہے ۔ پس یہ خیال کے یہ خیال کہ لڑ کر ہندوؤں کو نکال دیا جائے گا بالکل غلط ہے۔ بلکہ برعکس پچھتر فیصدی یہ امید ہے کہ ہندومہ ہے کہ ہندو مسلمانوں کو کچل ڈالیں گے ۔ کہا جاتا ہے کہ گاندھی جی نے مسلمانوں کی حفاظت کا وعدہ کر لیا ہے مگر جب حکومت