خطبات محمود (جلد 12) — Page 282
خطبات محمود ۲۸۲ سال ۱۹۳۰ء جائے یا ایسا اشارہ کر دیا جائے جس سے وہ ظاہر ہو جائے تو یہ نا جائز ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا اَنْ تُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ ، اس لئے کسی کے متعلق یا بعض افراد کے متعلق کوئی خبر بلا تحقیق مشہور کر دینا جائز نہیں۔ایسے امور میں احتیاط لازم ہے کیونکہ رسول کریم ﷺ نے اسے کذب قرار دیا ہے خواہ ایسا دانستہ نہ بھی کیا جائے۔بعض لوگ عادتاً ایسا کر لیتے ہیں اس لئے میں انہیں روکتا ہوں کہ ایسا نہ کریں۔تہمارا فرض ہے کہ جو بُری باتیں عادتا پیدا ہو جائیں ان میں اصلاح کریں اگر نا دانستہ ایسی بات ہو جائے تو بھی دل میں ندامت محسوس کریں جیسے میں اس امر کے متعلق جس کا ذکر اوپر کیا ہے دل میں نادم ہوا۔یہ میں نہیں کہہ سکتا کہ دوسروں نے بھی اس سے کچھ سمجھایا نہیں مگر میرے الفاظ میں اتنی گنجائش ضرور تھی کہ بعض لوگ سمجھ سکتے تھے۔تو اگر نا دانستہ یا اتفاقاً بھی ایسی حرکت ہو جائے تو بھی اس کے لئے نادم ہونا چاہئے۔لیکن اگر کوئی دانستہ ایسا کرے اور ایسے طریق پر کسی بات کو پیش کرے کہ دوسرے معلوم کرلیں تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ وہ شریعت کی گرفت کے نیچے ہے۔کوئی کہے عادتا ایسا ہو جانے کو رسول کریم ﷺ نے کہاں منع فرمایا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ بِكُلِّ مَا سَمِعَ کے معنے عادت کے ہی ہیں۔پس اگر رسول کریم نے کے احکام کی عزت آپ کے دل میں ہے تو جسے رسول کریم ﷺ نے جھوٹ فرمایا ہے اسے آپ بھی جھوٹ سمجھیں۔بعض لوگ بہت شور مچایا کرتے ہیں کہ ہماری روحانیت ترقی نہیں کرتی۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ عملاً وہی کچھ نہیں کرتے جو ان کے دل میں ہوتا ہے۔اسلام کا حکم ہے صبر کرو۔وہ دل سے تو اسے مانتے ہیں لیکن جب موقع آئے تو صبر نہیں کرتے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ وہ اسلام اور محمد رسول اللہ ﷺ کو معلم بنانا نہیں چاہتے اس لئے وہ جس مقام پر کھڑے ہوتے ہیں اس سے آگے ترقی نہیں کر سکتے بلکہ بعض اوقات گر جاتے ہیں۔یہی حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق ہے بعض لوگ آپ پر ایمان تو لے آئے لیکن انہیں معلم نہیں بناتے۔اگر آپ لوگ غور کریں کہ اس مہینے میں ہی آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کون سی نئی بات سیکھی ہے تو بہت سے ایسے نکلیں گے جنہیں معلوم ہو جائے گا کہ کئی سال سے انہوں نے کوئی نئی بات نہیں سیکھی۔دراصل سچا معلم وہی ہوسکتا ہے جو ہر آن راہبری کرے اور ہر