خطبات محمود (جلد 12) — Page 271
خطبات محمود ۲۷۱ سال ۱۹۳۰ء تشهد رمضان المبارک کی برکات فرموده ۳۱- جنوری ۱۹۳۰ء ) تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : میں کھانسی کی وجہ سے زیادہ بول تو نہیں سکتا لیکن اللہ تعالی کے فضل سے کل سے رمضان شروع ہونے والا ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس کے متعلق کچھ بیان کردوں ۔ میں نے اپنے تجربہ کی بناء بناء پر یہ بات دیکھی ہے کہ رمضان کے بارے میں، میں مسلمانوں میں افراط و تفریط سے کام لیا جاتا ہے۔ کئی تعلیم یافتہ لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ رمضان کی برکات کے قائل ہی نہیں اور بغیر کسی بیماری، بڑھاپے یا اور عذر شرعی کے روزہ کے تارک ہیں اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو سارا اسلام روزہ میں ہی محدود سمجھتے ہیں اور ہر بیمار کمزور بوڑھے بچے حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت سے بھی یہی امید رکھتے ہیں کہ روزہ ضرور رکھے خواہ بیماری بڑھ جائے یا صحت کو نقصان پہنچ جائے یہ دونوں افراط و تفریط میں مبتلاء ہیں ۔ اسلام کا منشاء یہ نہیں کہ انسان کو اس راستہ سے ہٹنے دے جو اُس کی کامیابی کا ہے۔ اگر تو شریعت چھٹی ہوتی یا جرمانہ ہوتا تو پھر بے شک ہر شخص پر خواہ وہ کوئی بوجھ اُٹھا سکتا یا نہ اُٹھا سکتا اسے اُٹھانا ضروری ہوتا ۔ جیسے حکومت کی طرف سے مجرمانہ کر دیا جاتا ہے اُس وقت یہ نہیں دیکھا جاتا کہ جس پر کیا گیا ہے اُس میں ادا کرنے کی استطاعت بھی ہے یا نہیں اور جس پر مجرمانہ ہو اُسے خواہ گھر بار بیچنا پڑے بھوکا رہنا پڑئے پڑے بھوکا رہنا پڑے، غرضیکہ وہ رہے یا مرے مجرمانہ کی رقم ادا کرنا اس کے لئے ضروری ہے۔ مگر قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے احکام چٹی نہیں بلکہ وہ انسان کے