خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 240

خطبات محمود ۔ لد۔ سال ۱۹۲۹ء وسلم کی زبردست خواہش تھی کہ ابو طالب ایمان لے آئیں مگر یہ خواہش پوری نہ ہوئی اور ابو طالب یہ الفاظ کہتے ہوئے ہی مر گئے کہ اگر میں ایمان لے آیا تو لوگ کہیں گے ڈر گیا ہے لیکن اس کے مقابلہ میں ابو جہل اشد ترین معاند تھا اس کا بیٹا عکرمہ جو ہر لڑائی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سخت مقابلہ کرتا تھا اسلام میں داخل ہوا اور خدمتِ اسلام میں ہی اس نے جان دے دی ۔ تو دیکھو ایک طرف تو وہ شخص ہے جس سے رسول کریم صلی ا اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس قدر تعلق تھا کہ آپ نے ان انتہائی کوشش کی کہ وہ ایمان لے آئے لیکن وہ ایمان نہ لا نہ لایا اور دوسری طرف ایسا اشتد ترین دشمن ہے جس کے متعلق جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رویا چلتے دیکھا کہ ایک انگور کا خوشہ ہے ۔ آپ نے دریافت فرمایا یہ کس کے لئے ہے؟ اور جب بتایا گیا کہ ابو جہل کے لئے ہے تو آپ گھبرا گئے اور فرمایا کیا ابو جہل میرے ساتھ ہو گا ؟ یہ رویا عکرمہ کے مسلمان ہو جانے سے پورا ہوا ۔ کیونکہ بعض اوقات رؤیا میں باپ سے مراد بیٹا ر بیٹا بھی لیا جاتا ہے پس ایسے مخالف کے بیٹے کا خدمت اسلام میں اس طرح جان دینا کہ سر سے پیر تک تمام جسم زخموں سے چور تھا اور ادھر ایسے شخص کا جس نے آپ کی مدد کرنے کے لئے خطرناک مصائر مصائب برداشت کئے محروم رہنا بتاتا ہے کہ اس انتخاب میں بندے کا کوئی دخل نہیں ہوتا ۔ پس اپنی مرضی کے خلاف ہوئے دوستوں کے متعلق زیادہ ضرور زیادہ ضروری ہے کہ احتیاط سے کام لیا جائے تا کہ کسی قسم کا فساد پیدا نہ ہو۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا یہی ہے اور اُس نے ہی ہمیں ایک دوسرے کا بھائی بنایا ہے اس لئے اس کی مرضی کے خلاف چلنے کی کوشش کرنا کبھی بھی موجب فلاح نہیں ہو سکتا ۔ بہت سے نادان جماعت میں اس لئے فتنہ پیدا کر دیتے ہیں کہ ان کے کسی رشتہ دار سے کسی احمدی کا کوئی جھگڑا ہوتا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ اگر چہ وہ اُن کا بھائی ہے ۔ لیکن احمدی کو خدا تعالیٰ نے ان کا بھائی بنایا ہے اور خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے بھائی پر ماں باپ یا رشتہ کے بھائی کو مقدم کرنا ایسی نا معقول بات ہے جسے ایک مؤمن ایک منٹ کے لئے بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ پس اپنے معاملات اور سلوک میں ہمیشہ اس بات کو مد نظر رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے فضل نے ہمیں آپس میں بھائی بھائی بنایا ہے اس لئے آپس میں اس قدر محبت رکھنی چاہئے کہ سب کے دل میں اسی طرح جمع ہوں جس طرح ظاہری طور پر تمام جمعہ کی نماز میں جمع ہوتے ہیں ۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ ہمارے قلوب صاف ہوں اور ہمارے دل ان لوگوں کی محبت سے بھر پور ہوں جن کو خدا تعالیٰ نے