خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 213

خطبات محمود (۲۹) سال ۱۹۲۹ء جلسہ سالانہ پر خود آؤ اور دوستوں کو ساتھ لاؤ (فرموده ۶ - دسمبر ۱۹۲۹ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میں نے پچھلے سے پچھلے جمعہ میں اپنی جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ جلسہ سالانہ اب قریب آ گیا ہے اور اس کے لئے ہماری جماعت کے دوستوں کو مالی قربانی کرنی چاہئے اور میں نے خصوصیت کے ساتھ قادیان کے دوستوں کو ان کے اوپر خدا تعالیٰ کی طرف سے جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس کی طرف متوجہ کیا تھا۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ قادیان کے دوستوں نے جو رقم ان کے ذمہ لگائی گئی تھی مجھے اطلاع ملی ہے کہ پوری کر دی ہے بلکہ اس سے کچھ زیادہ جمع کر دی ہے۔ان دنوں یہاں کے ملازم اور کارکن اور ان کی وجہ سے یہاں کے تاجر جن دقتوں سے بسر اوقات کر رہے ہیں ان کا اندازہ صرف یہاں کے رہنے والے ہی کر سکتے ہیں کیونکہ ان میں سے اکثر کو تین تین ماہ کی تنخواہیں نہیں ملیں اسی طرح یہاں کے تاجروں کو کئی کئی مہینوں کے بل نہیں ملے۔اس میں شبہ نہیں کہ ان کی جو رقم سلسلہ کے ذمہ ہے وہ ضائع نہیں ہو گی لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ انسان جس وقت تکلیف میں ہوتا ہے اس کا حوصلہ گرا ہوا ہوتا ہے اور خصوصاً اس حالت میں کہ اس کی جیب میں کچھ نہ ہو اور اسے کوئی رقم نقد ادا کرنی پڑے۔یہ اس کے لئے نہایت تکلیف دہ اور آزمائش کا موقع ہوتا ہے لیکن باوجود اس کے مجھے بتایا گیا ہے کہ یہاں کے دوستوں نے پندرہ سو نقد اور چھوسو سے کچھ او پر بصورت وعدہ جو وہ بہت جلد ادا کر دیں گے جمع کر دیا ہے اور میں سمجھتا ہوں یہ بیرونی جماعتوں کے لئے ایک نمونہ ہے۔گو