خطبات محمود (جلد 12) — Page 197
خطبات محمود ۱۹۷ سال ۱۹۲۹ء فریب انسانی چالوں کے مقابل میں ہوتے ہیں خدا تعالیٰ کی جماعتیں ان سے ہرگز نہیں ڈرسکتیں یہ ہمارا کام نہیں خود خدا تعالیٰ کا کام ہے۔ کارکنوں کا فرض ہے کہ حالات اور واقعات پیش آمدہ سے جماعت کو آگاہ کیا کریں اور میرا تجربہ ہے تین چار بار تو میری خلافت کے زمانہ میں ہی ایسے مواقع پیش آئے کہ جب بھی حالات کو کھول کر جماعت کے سامنے رکھا گیا تو اس نے کبھی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا اور مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کیا ہے۔ دراصل ہماری جماعت میں جو اخلاص اور دین سے محبت پائی جاتی ہے اس کی نظیر کہیں نہیں مل سکتی ۔ یہی وجہ ہے کہ عبد الحکیم مرتد نے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لکھا کہ جماعت میں سوائے مولوی نورالدین صاحب کے اور کوئی آدمی اعلیٰ پایہ کا نظر نہیں آتا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے لکھا مجھے تو اس جماعت میں لاکھوں صحابہ کے نمونے نظر آتے ہیں یہ تمہاری آنکھوں کی بینائی کا قصور ہے کہ تم نہیں دیکھ سکتے ۔ سکتے ۔ دراصل یہ دعویٰ جس کا ذکر دے کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عبد الحکیم کے مقابلہ پر کیا۔ اس کا ثبوت ایسے ہی مواقع پر ملا کرتا ہے اور تجربہ شاہد ہے کہ جب بھی معاملہ کھول کر جماعت کے سامنے رکھا گیا اور قربانی کا مطالبہ کیا گیا خواہ وہ قربانی مالی ہو یا جانی یا کسی اور طرز کی جماعت ہمیشہ آگے ہی بڑھی ہے اور کبھی پیچھے نہیں ہٹی ۔ یہ میر ایا کسی اور شخص کی ذات کا اثر نہیں بلکہ خود خدا کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وعدہ ہے کہ میں الہام کے ذریعہ لوگوں کے دل تیری طرف متوجہ کروں گا سے اب جبکہ سلسلہ کی مالی حالت کمزور تھی تو زیادہ ضرورت تھی اس امر کی کہ جلسہ کی تحریک زیادہ زور سے کی جاتی اور میرا یقین ہے جماعت ضرور اس پر لبیک کہتی اور اگر نہ بھی کہتی تو چونکہ یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے وہ خود سامان پیدا کر دیتا۔ کئی دفعہ بعض دوستوں نے مجھے کہا کہ فلاں محکمہ اُڑا دو۔ میں نے انہیں یہی جواب دیا کہ اگر ساری جماعت فیصلہ کر کے کہہ دے کہ اُڑا دو تو میں جماعت کے مشورہ کے احترام کے طور پر اُڑا دوں گا لیکن خود میرا دل نہیں چاہتا کہ جو قدم آگے اُٹھ چکا ہو اُسے پیچھے ہٹایا جائے ۔ اور جب کوئی قدم پیچھے ہٹایا جائے تو وہ پیچھے ہی ہمتا جاتا ہے آگے بڑھانے کا بہت کم ہی موقع ملتا ہے۔ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں ایک دفعہ اسی طرح قحط کی وجہ سے مالی کمزوری تھی منتظمین نے فیصلہ کیا کہ جلسہ تین دن کی ادن کی بجائے دو دن کیا جائے ۔ حضرت خا خلیفہ اول کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے مجھے لکھا اگر چہ میرا اس انتظام سے تو را اس انتظام سے تعلق نہ تھا لیکن آپ کا طریق تھا کہ جب دیکھتے جس شخص سے کوئی