خطبات محمود (جلد 12) — Page 169
خطبات محمود ۱۶۹ سال ۱۹۲۹ء ہوں یہ بھی غلط ہے کہ ان کا کوئی بڑا بھاری جتھہ ہے۔ باب کو دعوٹی کئے اسی سال سے زاہد ہو گئے ہیں اس عرصہ میں ان کی جو جماعت قائم ہوئی اس کا مقابلہ جماعت احمدیہ کی چالیس سال میں پیدا محمدہ تعداد سے کر لیا جائے ۔ باقی ان لوگوں کی قربانیاں پیش کی جاتی ہیں مگر ان کا پتہ مقابلہ سے لگ سکتا ہے ان میں سات آدمیوں کی قربانی بہت مشہور ہے۔ مگر بات یہ ہوئی کہ اڑتیں آدمی پکڑے گئے تھے جن میں سے اکتیس تائب ہو کر چھوٹ گئے اور صرف سات باقی رہے۔ مگر ہماری جماعت کے پانچ آدمی پکڑے گئے جن میں سے ایک نے بھی صداقت کا انکار نہ کیا اور خوشی سے جان دے دی ۔ ان کے نام یہ ہیں ۔ عبدالرحمن صاحب صاحبزادہ عبداللطیف صاحب نعمت اللہ خاں صاحب نور علی صاحب، عبد الحکیم صاحب ۔ یہ پانچوں علیحدہ علیحدہ موقعوں پر گرفتار ہوئے مگر ہر ایک نے اپنے عقائد کو صاف صاف بیان کر دیا۔ انہیں عقائد کا تھوڑا بہت انکار کرنے پر بھی چھوڑ دینے کے لئے کہا گیا مگر انہوں نے قطعاً گوارا نہ کیا کہ بال بھر بھی اپنے عقائد سے علیحدہ ہوں اس کی بجائے یہ پسند کیا کہ کال کوٹھڑیوں میں انہیں بند کیا جائے، بھوکا پیاسا رکھا جائے، بہت وزنی آہنی زنجیریں پہنائی جائیں، ناک میں نکیل ڈال کر بازاروں میں گھسیٹا جائے اور پتھر مار مار کر شہید کر دیا جائے ۔ آخر مرتے وقت رتے وقت بھی یہی دعا ان کی زبان پر تھی خدا تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت و ایت دے۔ بہائی ان لوگوں کو تو پیش کرتے ہیں جو ان میں سے مارے گئے مگر یہ کبھی نہیں بتاتے کہ انہوں نے کتنے بے گناہوں کے خون بہائے ۔ بہت سے ایسے واقعات موجود ہیں جن میں بہائیوں نے دوسروں کو قتل کیا۔ یہ لوگ اپنے آپ کو مظلوم کہتے کہتے نہیں تھکتے مگر یہ نہیں بتاتے کہ خود انہوں نے کتنے مظالم کئے ۔ اس کے مقابلہ میں احمدی جماعت کا کوئی ظلہ ا کوئی ظلم ثابت نہیں کیا جا سکتا حالانکہ ہمار جماعت کے لوگوں نے مخالفین سے بڑی بڑی تکلیفیں اُٹھائیں۔ کبھی کسی لڑائی میں کسی احمدی کے ہاتھ سے کسی کو چوٹ لگ گئی ہو تو یہ اور بات ہے ورنہ احمدیوں نے کسی پر حملہ نہیں کیا احمدیت کا چہرہ اس داغ سے بالکل صاف ہے۔ پس کسی صورت میں بھی بہائیت احمدیت پر غالب نہیں آ سکتی ۔ رہا یہ کہ کوئی بہائیت کی حمائت میں مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ اوّل تو اس کے بغیر ہی ثابت ہے کہ کے خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت حاصل ہے۔ لیکن اگر کوئی مباہلہ کرنا چاہے اور اس کی ایسی پوزیشن ہو جو مذہبی لحاظ سے کچھ اثر رکھتی ہو تو اس سے ایک دفعہ نہیں بلکہ ہزار دفعہ ہم مباہلہ کے لئے تیار لہ ہماری