خطبات محمود (جلد 12) — Page 131
خطبات محمود ۱۳۱ سال ۱۹۲۹ء کو پھر وہ کسی بات پر خوش ہوتا تو یہ کہا کرتا ۔ جس کے معنی یہ ہوتے تھے کہ ہم اس شخص کی بات پر بڑے خوش ہوئے ہیں اسے ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی دی جائے ۔ چنانچہ بادشاہ کو کسان کی بات پسند آئی اور اس نے زہ کہا۔ اس پر وزیر نے ایک تھیلی کسان کے حوالے کی ۔ تھیلی لے کر میاں کسان بولے بادشاہ سلامت ! دیکھا اس د ! دیکھا اس درخت نے تو لگاتے لگاتے پھل و تے پھل دے دیا۔ یہ بات بادشاہ اچھی لگی اور اس نے زہ کہا وزیر نے ایک اور تھیلی کسان کے حوالے کر دی ۔ پھر تھیلی لے کر کسان نے کہا بادشاہ سلامت ! اور لوگ جو درخت لگاتے ہیں وہ سال میں صرف ایک دفعہ پھل دیتے ہیں مگر میرے درخت نے تو لگاتے لگاتے دو دفعہ پھل دیدیا ۔ بادشاہ کو اس بات نے اور بھی خوش کیا اور اس نے پھر زہ کہا اور وزیر نے تیسری تھیلی کسان کے حوالے کر دی۔ آخر بادشاہ نے حکم دیا کہ یہاں سے چلو ورنہ یہ بوڑھا تو ہمیں لوٹ لے گا۔ کے پس بعض قربانیاں ایسی کرنی پڑتی ہیں جن کا نفع فوری طور پر نظر نہیں آتا مگر ان کے پس پردہ بہت عظیم الشان فوائد ہوتے ہیں ۔ انبیاء کے حقیقی متبعین بھی قربانیاں کرتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں کامیاب ہو جاتے ہیں ! ہیں اور باقی لوگ ذلیل وخوار - حضرت عیسی کے حواریوں کو دیکھوان ا کیا ظلم و ستم کئے گئے ۔ پہلی اور دوسری صدی میں ان پر سخت ری صدی میں ان پر سخت مظالم ڈھائے گئے وہ مع وہ مصائب کا تختہ مشق بنائے گئے مگر انہوں نے صبر سے مظالم کو برداشت کیا اور قہ کیا اور قربانی پر قربانی کرتے گئے حتی پر کیا کیا کہ تیسری صدی میں جا کر انہیں آزادی حاصل ہوئی جب کہ روما کا بادشاہ عیسائی ہو گیا۔ میں نے جو روما کی غاریں کہلاتی ہیں ۔ وہ خدا کی جماعت ان غاروں میں چھپ کر دیکھی ہیں وہ غاریں د گزارہ کرتی تھی تا کہ مخالفین کے مظالم سے بچے ۔ وہ غاریں اتنی وسیع ہیں کہ اگر ان کو پھیلایا جائے تو دوسو میل سے کم لمبائی نہ ہوگی ۔ ہمارے لئے بھی ضروری ہے کہ ہم بلحاظ ایمان کے پتھر کی چٹان کی طرح ثابت ہوں کچے ایمان تو پہلے بھی مو موجود تھے ما موروں کا کا کا کام نئی زندگی پیدا کرنا پیدا کرنا ہوتا ہے۔ انبیاء کی جماعتوں کے ہر فرد کو سمجھنا چاہئے کہ میرے ہی ذریعہ دنیا کی نجات ہوگی میں نے ہی سب کام کرنا ہے میں انجن ہوں باقی سب گاڑیاں ہیں جب ؟ جب تک یہ احساس نہ ہوا نہ ہو اُس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی ۔ سچا موحد انسان اس صورت میں بن سکتا ہے کہ وہ سمجھے دنیا میں وہ اکیلا ہی کام کرے گا ۔ سورۃ فاتحہ میں ایاکَ نَعْبُدُ ہے جو آیا ہے اس میں یہی نکتہ بیان کیا گیا ہے ۔ ہر شخص کہتا ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ