خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 112

خطبات محمود ۱۱۲ سال ۱۹۲۹ء ان میں سے ایک شخص نے کہا اگر ہم پر ناراضگی ہے تو ہمارا کوئی کیا کرلے گا ۔ یہ ایک عام فقرہ ہے جو ایسے مواقع پر سوچے سمجھے بغیر بول دیا جاتا ہے اور یہ اتنا عام ہو چکا ہے کہ اس کی اہمیت لوگوں کی نظروں سے گر چکی ہے۔ اس کا استعمال اس کثرت سے ہونے لگا ہے کہ نہ تو کہنے والا اسے کوئی چیلنج سمجھتا ہے اور نہ سننے والا بلکہ یہ محض اظہار نا راضگی لگی کا کا ذریعہ ذرہ سمجھا جاتا ہے لیکن در دراص اصل اس کے اندر بہت بڑی بات ہے اور دینی معاملات میں تو اس کا استعمال بہت ہی اہمیت رکھتا ہے جسے اس کی عمومیت کے باوجود نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ کہنا کہ کوئی ہمارا کیا بگاڑ لے گا اس کے یہی معنی وہ لیتا ہے کہ کوئی ہمیں قید نہیں کر سکتا، ہماری جائداد ضبط نہیں کر سکتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ قید کرنا یا ملک بدر کر دینا یا قتل کر دینا ہی سزائیں نہیں بلکہ اس سے سخت سزائیں بھی ہیں ۔ میں آج ایک سزا کا ذکر کرتا ہوں جو بظاہر ایک انعام معلوم ہوگا لیکن دراصل بہت بڑی سزا تھی جسے دی گئی وہ موت تک دُکھ پاتا رہا۔ وہ سزا یہ تھی کہ ایک شخص کے نے رسول کریم ﷺ سے آ کر کہا دعا کریں ہمیں بہت سے مال و اموال ملیں تا خوب صدقے کر سکیں ۔ رسول کریم ﷺ نے دعا کی اور وہ شخص بہت مالدار ہو گیا ۔ جب ایک شخص اس سے زکوۃ لینے کے لئے گیا جو اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ فرض ہے تو اس نے کہا تمہیں کیا پتہ ہے ہم لوگوں کو کتنے تفکرات اور اخراجات ہیں اُٹھتے بیٹھتے چندہ چندہ ہی کرتے ہو۔ اس نے رسول کریم ﷺ سے اس کا ذکر کر دیا آپ نے فرمایا آئندہ اس سے زکوۃ کبھی نہ لی جائے ۔ اب اگر وہ ہائے ۔ اب اگر وہ شخص اسی دل و دماغ کا ہوتا جو اس شخص کا تھا جس نے کہا ہمارا کیا بگاڑ لے گا تو ممکن ہے وہ یہی سمجھتا چلو چھٹی ہوئی لیکن اس کے اندر چونکہ نیکی اور تقوی کا مادہ باقی تھا کچھ دنوں کے بعد اُس نے محسوس کیا کہ اُس نے غلطی کی ہے۔ اِس پر اُس نے جا کر کہا مجھے کوئی اور سزا دے دی جائے لیکن زکوۃ مجھ سے لی جایا کرے۔ لیکن اُس کی یہ درخواست قبول نہ ہوئی ۔ وہ بار بار آتا اور یہی درخواست کرتا مگر رسول کریم علی انکار فرماتے اور وہ روتا ہوا گھر لوٹ جاتا۔ جب رسول رسول کریم انتقال فرما گئے اور حضرت ابوبکر خلیفہ ہو ۔ صلى الله عليه صلى الله خلیفہ ہوئے تو جہاں اور مسلمانوں کو صدمہ ہوا اُسے بھی ہوا ۔ لیکن اُسے ایک روشنی کی جھلک بھی نظر آئی کہ شاید اب میرے لئے تو بہ کا دروازہ کھل جائے ۔ اُس نے بھیڑ بکریوں اور اونٹوں کا بڑا گلہ ساتھ لیا اور رت ابو بکر کو کہلا بھیجا کہ فلاں شخص زکوۃ لے کر آیا ہے۔ آپ نے فرمایا جس کی زکوۃ خدا حضرت کے رسول نے رڈ کر دی میں اُس کی زکوٰۃ کس طرح قبول کر سکتا ہوں ۔ پھر وہ گلہ اپنے گھر لے جا