خطبات محمود (جلد 12) — Page 99
خطبات محمود ۹۹ سال ۱۹۲۹ء اسلام کی ہتک ہو گی وہ اگر عیسائی ہے تو عیسائی مذہب کا دشمن ہے اگر سکھ ہے تو سکھ مذہب کا دشمن ہے اور اگر ہندو ہے تو ہندو دھرم کا دشمن ۔ ہنک تو دراصل گالی دینے والے کی ہوتی ہے جسے گالی دی جائے اس کی کیا بہتک ہو گی ۔ ہتک تو اخلاق کی بناء پر ہوتی ہے اگر کوئی شخص مجھے گالیاں دیتا ہے تو وہ اپنی بداخلاقی کا اظہار کرتا ہے اور اس طرح خود اپنی ہتک کرتا ہے۔ میں گالیاں سنتا ہوں اور برداشت کرتا ہوں تو اپنے بلند اخلاق کا اظہار کرتا ہوں جو میری عزت ہے۔ وہ مذہبی لیڈر جنہوں نے قوموں کی ترقی کے لئے کام کیا خواہ کسی بڑے طبقہ میں یا ایک بہت ہی محدود طبقہ میں کیا ہو وہ قابل عزت ہیں اور انسانی فطرت کا تقاضا یہی ہے کہ ان کی عزت کی جائے ۔ جو قوم ایسا نہ کرنے والوں کی مدذ کرتی ہے وہ خود اپنی تباہی کا سامان پیدا کرتی ہے ۔ اسی طرح وہ لوگ جو قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں وہ بھی مجرم ہیں اور اپنی قوم کے دشمن ہیں اور جو اُن کی پیٹھ ٹھونکتا ہے وہ بھی قوم کا دشمن ہے۔ میرے نزدیک تو اگر یہی شخص قاتل ہے جو گرفتار ہوا ہے تو اس کا سب سے بڑا خیر خواہ وہی ہو سکتا ہے جو اس کے پاس جائے اور اسے سمجھائے کہ دنیا وی سزا تو تمہیں اب ملے گی ہی لیکن قبل اس کے کہ وہ ملے تمہیں چاہئے کہ خدا سے صلح کر لو۔ اس کی خیر خواہی اسی میں ہے کہ اسے بتا دیا جائے تم سے غلطی ہوئی ۔ ہم تمہارے مجرم کو کم تو نہیں کر سکتے لیکن بوجہ اس کے کہ تم ہمارے بھائی ہو تمہیں مشورہ دیتے ہیں کہ تو بہ کرو گریہ وزاری کرو اور خدا کے حضور گڑ گڑاؤ۔ یہ احساس ہے جو صلى الله اگر اس کے اندر پیدا ہو جائے تو وہ خدا کی سزا سے بچ سکتا ہے اور اصل سزا وہی ہے ۔ ہندو مسلمانوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے کے بزرگوں کی خوبیوں پر نظر رکھیں اور یہی طریق قیام امن امن کا کا موجب ہو۔ ہو سکتا ہے اسی لئے میں نے ایسے جلسوں کی بنیاد بنیاد رکھی رکھی تھی تھی کہ کہ تار تار رسول کریم کی خوبیاں دنیا کے سامنے پیش کی جاسکیں ۔ اور اگر دوسری قو میں بھی اپنے مذہبی پیشواؤں کے متعلق ایسا انتظام کریں تو بشرطیکہ کوئی پولیٹیکل فائدہ ان کے مد نظر نہ ہو ہم ان میں بھی ضرور شامل ہونگے ۔ ہمارا یہ سمجھ لینا کہ فلاں شخص خادم ملک و ملت تھا ہماری ہتک نہیں بلکہ یہ معنی رکھتا ہے کہ ہماری آنکھیں درست ہیں۔ یہی طریق ہے جس سے مختلف اقوام میں صلح ہو سکتی ہے کہ جس کسی نے کوئی خدمت کی ہے اس کا اعزاز کیا جائے اسی لئے میں نے ان جلسوں کی تحریک کی تھی ۔ اور میں پھر کہتا ہوں کہ اگر ہندو اور سکھ بھی ایسا انتظام کریں اور وہ کسی سیاسی غرض سے نہ ہو تو ہم