خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 98

خطبات محمود ۹۸ سال ۱۹۲۹ء صلى الله علم صلى کام لیتے تھے ۔ پس جب یہ ثابت ہے کہ ہتک کی جاتی تھی اور قرآن کریم سے یہ بھی ثابت ہے کہ بہت سی باتوں کا رسول کریم علی کو علم بھی دیا جاتا تھا اور یہ بھی ثابت ہے یہ بھی ثابت ہے کہ رسول کریم علیہ کو ایسے لوگوں کے نام بھی معلوم تھے ۔ چنانچہ صحیح حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ایسے لوگوں کے نام حذیفہ بن الیمان کو بھی بتائے کے حتیٰ کہ صحابہ کا طریق تھا کہ رسول کریم کی وفات کے بعد جس شخص کا جنازہ پڑھنے سے حذیفہ انکار کرتے وہ بھی انکار کر دیتے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ حذیفہ کو رسول کریم ﷺ نے منافقین کے نام بتا دیئے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نہ صرف یہ کہ رسول کریم ﷺ کی زندگی میں ہی منافق موجود تھے بلکہ یہ بھی یہ بھی کہ آپ کی وفات کے بعد بھی تھے لیکن رسول کریم ﷺ کی ساری زندگی میں ان میں سے ایک شخص بھی قتل نہیں کیا گیا سوائے ان کے جن پر کوئی پولیٹیکل جرم ثابت ہو چکا ہو خالص تضحیک کرنے والا ایک شخص بھی قتل نہیں ہوا بلکہ صحابہ کے زمانہ میں بھی کوئی نہیں ہوا۔ اگر ایسے لوگوں کو قتل کر دینے کا حکم ہوتا تو حذیفہ کو چاہئے تھا تمام مسلمانوں کو بتا دیتے کہ فلاں فلاں لوگ منافق ہیں، انہیں فوراً قتل کر دو کیونکہ اپنی قوم کا ہتک کرنے والا دوسروں سے بہت زیادہ مجرم ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ ایک کے سامنے کہا میں قسم کھا ۔ قسم کھاتا ہوں موسیٰ کی جسے خدا نے سارے انسانوں پر فضیلت دی ہے۔ حضرت عمرؓ نے اسے مارا۔ ج مارا۔ جب رسول کریم ﷺ کو خبر پہنچی تو آپ نے حضرت عمر سے کہا کہ کیوں مارا؟ ایسا نہیں چاہئے تھا ۔ ہے یہ نہیں کہا کہ تلوار کیوں نہ چلائی ۔ غرض قتل پر آمادہ ہو جانے کا طریق غلط ہے اور اس سے قوموں کے اخلاق تباہ ہو جاتے ہیں ۔ پس میں مسلمانوں سے بھی اور ہندوؤں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ عاجل باتوں کی طرف نہ جائیں ۔ مسلمانوں کو یا د رکھنا چاہئے کہ چاند پر چھو کنے سے اپنے ہی منہ پر آ کر ٹھوک پڑتا مخالف خواہ کتنی ہی کوشش کریں محمد رسول اللہ ﷺ کے نور کو گردو غبار سے نہیں چھپا سکتے ۔ اس نور کی شعاعیں دور دور پھیل رہی ہیں ۔ تم یہ مت خیال کرو کہ کسی کے چھپانے سے یہ چھپ سکے گا۔ ایک دنیا اسلام کی معتقد ہو رہی ہے۔ پادریوں کی بڑی بڑی سوسائٹیوں نے اعتراف کیا ہے کہ ہمیں سب سے زیادہ خطرہ اسلام سے ہے کیونکہ اسلام کی سوشل تعلیم کی خوبیوں کے مقابلہ میں اور کوئی مذہب نہیں ٹھہر سکتا ہے۔ اسلام کا تمدن یورپ کو کھائے چلا جا رہا ہے اور بڑے بڑے متعصب اسلام کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ اسلام کو گالی دینے سے یہودی نے حضرت عمرؓ کے سا۔ ہے۔