خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 7

خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء ساتھ اس پالیسی کے خلاف آواز اٹھائی تھی بلکہ میں کہہ سکتا ہوں کہ بحیثیت جماعت اس تحریک کی مخالفت کرنے والی ہندوستان بھر میں صرف ہماری ہی جماعت تھی اس لئے قدرتی طور پر یہ خیال میرے دل میں آ سکتا تھا کہ ممکن ہے آغا صاحب کو ہم سے عناد ہو اس لئے وہ اس کام کے لئے مناسب نہیں۔لیکن جب ان کا نام میرے سامنے پیش کیا گیا اور مجھے بتایا گیا کہ وہ دیانت دار آدمی ہیں تو میں نے کہا یہ کوئی دینی معاملہ تو ہے نہیں دینی معاملہ تو ہم تمام دنیا کے سامنے بھی فیصلہ کے لئے پیش کرنے کو تیار نہیں جیسے وفات مسیح، صداقت مسیح موعود یا خلافت کے مسائل ہیں۔یہاں تو معمولی بات ہے کہ کس نے معاہدہ کی پابندی کی اور کس نے اسے توڑا ؟ اور ظاہر ہے کہ ایسی باتوں کا مذہبی عقائد یا نظام سلسلہ پر کوئی اثر نہیں پڑ سکتا۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے لین دین کے جھگڑے عام طور پر ثالثوں کے ذریعہ طے پاتے ہیں اور چونکہ آغا صاحب کے متعلق ان کے بعض دوستوں نے مجھے بتایا کہ وہ دیانتدار آدمی ہیں اس لئے میں نے کہا کہ اس معمولی معاملہ میں ہم انہیں فیصلہ کرنے کے لئے ثالث مقرر کر سکتے ہیں اور میں نے اس شخص سے جو میرے پاس پیغام لایا تھا کہہ دیا کہ مجھے یہ منظور ہے۔چنانچہ اب لاہور جانے پر مجھے معلوم ہوا کہ ان صاحب نے دوسرے فریق سے بھی اس بارہ میں گفتگو کر لی ہے اور اس نے بھی آغا صاحب کے تقرر پر اظہار رضا مندی کیا ہے اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اس کے متعلق دوبارہ جماعت کو آگاہ کر دوں۔ممکن ہے کسی کے دل میں یہ خیال ہو کہ ایک مذہبی معاملہ میں ثالث کا کیا تعلق ؟ میں بھی کہتا ہوں بے شک یہ صحیح ہے۔مذہبی مسئلہ میں تو خواہ وہ رفع یدین یا اس سے بھی معمولی ہو ہم تمام دنیا کے عقلمندوں کو بھی ثالث مقرر نہیں کر سکتے۔مذہبی مسائل خدا تعالیٰ کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں اور وہی ان کا فیصلہ کر سکتا ہے یا اس کے دیئے ہوئے اختیارات سے اس کے رسول فیصلہ کرنے کے مجاز ہوتے ہیں۔لیکن یہ معاملہ آپس کے جھگڑے اور باہمی تنازعات سے تعلق رکھتا ہے اور ایسا معاملہ ہے جسے عدالت میں بھی لے جایا جا سکتا ہے اور ظاہر ہے کہ ایسے معاملات میں اگر کوئی شخص آپس کے فیصلہ کو نہ مانے تو عدالت کا فیصلہ تو اسے ضرور ہی ماننا پڑتا ہے اس لئے اسے بذریعہ ثالث طے کرانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ایسے امور میں جن کا تعلق دین سے نہ تھا ثالث مقرر کرنے کا اعلان کیا اسی طرح یہ معاملہ بھی دنیوی امور سے ہی تعلق رکھتا ہے کہ معاہدہ کے بعد ہماری طرف سے زیادتی ہوئی یا ان کی طرف سے۔