خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 70

خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء مریض پر اثر نہیں کرتی حالانکہ اس بیماری کے اور بیسیوں مریض اس سے نفع حاصل کرتے ہیں اس کی بجائے ایک معمولی سانسخہ اسے فائدہ دے دیتا ہے۔تو انسانوں کے مزاج کے اختلاف کی وجہ سے طبیب دوائیں بھی مختلف دیتے ہیں اور جو طبیب اس امر کا خیال نہ رکھے وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا اور اس کے زیر علاج مریض کبھی شفایاب نہیں ہو سکتے۔ہماری پرانی طب میں تو مزاجوں کو نہایت ہی اہم چیز قرار دیا گیا ہے اور انگریزی طب میں بھی اس امر کو تسلیم کیا گیا ہے کہ بعض اشیاء بعض لوگوں کے مزاج کے باعث مُضر ہوتی ہیں وہ خاص مرض کیلئے مفید ہوتی ہیں لیکن خاص آدمی کیلئے مضر ہو سکتی ہیں۔یہی حال قوموں کا ہے بعض اقوام میں بعض امراض ہوتی ہیں جو دوسری قوموں میں نہیں پائی جاتیں یا کم ہوتی ہیں۔مثلاً سرطان یہودیوں میں بہت کم ہوتا ہے حالانکہ یورپ کی دوسری اقوام میں بہت زیادہ ہے۔اسی طرح بعض بیماریاں آب و ہوا سے تعلق رکھتی ہیں جیسے کو ڑھ زیادہ تر گرم ملکوں میں ہوتا ہے۔غرض جس طرح انسانوں میں اختلاف خاندانوں میں اختلاف قوموں میں اختلاف اور ملکوں میں اختلاف ہوتا ہے اسی طرح زمانوں میں بھی اختلاف ہوتا ہے۔بعض خاص امراض ایک وقت میں بہت پھیلتے ہیں مگر دوسرے زمانہ میں نہیں ہوتے۔پرانی طب میں بعض بیماریوں کا ذکر آتا ہے جو اس زمانہ میں نہیں ہیں۔بعض نادان طبیب اور ڈاکٹر ان کے متعلق پڑھ کر کہتے ہیں لکھنے والے نے یہ غلط باتیں لکھ دیں حالانکہ انہوں نے بیسیوں اور سینکڑوں مریضوں کو دیکھ کر تجربہ کی بناء پر لکھی ہوتی ہیں۔یقیناً ان کے زمانہ میں ایسی بیماریاں تھیں جو اب نہیں ہیں اور بعض ایسی ہیں جو اب ہیں مگر پہلے نہیں تھیں۔جیسے انفلوئنزا یہ پہلے نہیں تھا یا اگر تھا تو ایسی شدید وبا کی صورت میں کبھی ظاہر نہیں ہوا تھا جیسے آب ہوا۔اور بھی بعض بیماریاں ہیں۔افریقہ کے ملک میں ایک بیماری ہوتی ہے جو پہلے دوسرے ممالک میں نہیں ہوتی تھی لیکن جب دوسرے ممالک کے لوگ افریقہ گئے تو وہاں سے لے آئے اور اب یہ دوسرے ممالک میں پھیلنا شروع ہوگئی ہے۔تو مختلف زمانوں کے ساتھ مختلف بیماریوں کا تعلق ہوتا ہے۔اسی طرح میرا تو خیال ہے کہ زمانوں کے ساتھ علاجوں کا بھی تعلق ہے۔میں بعض اوقات پڑھتا ہوں کہ فلاں چیز اکسیر ہے لیکن اس زمانے کے ڈاکٹر کہتے ہیں کہ یہ کوئی اکسیر نہیں پہلوں نے غلطی کی جو اسے اکسیر بتایا لیکن میں سمجھتا ہوں پہلوں نے تصحیح لکھا تھا۔اصل بات یہ ہے کہ مختلف دوائیاں بھی مختلف