خطبات محمود (جلد 12) — Page 522
خطبات محمود ۵۲۲ بچے کی تسلی کا باعث نہ ہو سکے گا بلکہ اگر ایک چوہڑی بھی پیار سے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرے گی تو اُسے سب سے بہتر سمجھے گا کیونکہ اس کے لئے شفقت اور محبت کا ذریعہ پیار ہے۔غرض ہر جگہ شفقت اور محبت کا رنگ الگ ہوتا ہے اور گو حقیقت یہی ہے کہ امیر اور غریب دونوں ہی اس کے متعلق یکساں حیثیت رکھتے ہیں، دونوں ہی شفقت اور محبت کے یکساں محتاج ہیں لیکن انسان کے اندر جو احساس کی طاقت ہے وہ ایک ہی چیز کو گراں یا سبک بھاری یا ہلکا کر دیتی ہے۔مائیں اپنے بچوں کو چھڑکتی ہیں مگر بچوں کے خیال میں بھی نہیں آتا کہ ماں کی جھڑ کی کوئی تکلیف دہ چیز ہے۔بعض اوقات وہ جھڑ کی پر ہنس کر بھاگ جاتے ہیں اگر ماں مارتی ہے تو اسے محبت سے چمٹ جاتے ہیں اگر کسی حرکت پر ڈانٹتی ہے تو بچہ کہتا ہے میں اسی طرح کروں گا۔لیکن ایک یتیم جس کے ماں باپ نہیں ہوتے اس سے اگر آدھا معاملہ بھی اس طرح کا کیا جائے تو وہیں منہ بسور نے لگ جاتا ہے اور ہمت ہار دیتا ہے۔کیوں؟ حالانکہ اس کے ساتھ کم معاملہ ہوا۔اس وجہ سے کہ اس کے احساسات بہت تیز ہو چکے ہوتے ہیں۔اسے خیال آتا ہے چونکہ میرے ماں باپ نہیں اس لئے مجھ سے سختی کی جاتی ہے۔اس وجہ سے وہ معاملہ جو بچوں سے روزانہ ماں باپ کرتے ہیں وہی اگر یتیم سے کیا جائے تو سمجھتا ہے کہ اس سے سختی کی گئی ہے۔غرض یتیم سے معاملہ اگر ایک سا بلکہ ماں باپ والے بچوں سے کم درجہ کا بھی کیا جائے تو بھی اُسے دُگنا احساس ہو گا۔یہی حال اور یہی فرق امیر اور غریب میں ماتحت اور افسر میں نظر آتا ہے۔وہی معاملہ جب ایک امیر سے کیا جائے تو وہ کہتا ہے کوئی حرج نہیں ایسا ہو ا ہی کرتا ہے لیکن جب غریب سے ہو تو اُسے بہت صدمہ ہوتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے غریب ہونے کی وجہ سے مجھ سے ایسا معاملہ کیا گیا۔اسی طرح وہی معاملہ اگر ایک افسر سے کیا جائے تو وہ اسے معمولی سمجھتا ہے لیکن اگر ماتحت سے ہو تو وہ بہت محسوس کرتا ہے اور کہتا ہے ماتحت جو ہو ا جو جی چاہے کر لیا جائے۔اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ اُن کے احساسات بہت تیز ہوتے ہیں۔پس جہاں ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہے کہ عدل اور انصاف شفقت اور محبت سے لوگوں کے ساتھ سلوک کرے وہاں خدا تعالیٰ نے یہ بھی ضروری رکھا ہے کہ دوسروں کے احساسات کا خیال بھی رکھا جائے۔قرآن کریم کی متعدد آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مؤمن کو ظاہری طور پر ہی حسن سلوک نہیں کرنا چاہئے بلکہ دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنا بھی اس کا فرض ہے۔چنانچہ قلوب کے احساسات کے خیال