خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 3

خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء نئے سال کے ساتھ نئی تبدیلی کی ضرورت فرمودہ ۱۱۔جنوری ۱۹۲۹ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: گو آج وقت اس قدر ہو چکا ہے کہ خطبہ کا وقت نہیں رہا لیکن کچھ نہ کچھ خطبہ کے طور پر اپنی زبان میں بیان کرنا بھی چونکہ ضروری ہے اس لئے میں ان چند الفاظ پر اپنے خطبہ کو ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے ہمیں ایک نیا نسال عطا فرمایا ہے۔یہ تو معلوم نہیں کہ یہ سال پورا کا پورا ہم میں سے کس کس کو ملے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے احسانوں میں سے ایک احسان ہے کہ اس نے ہم کو ایک نیا سال عطا فر مایا۔پس ہمارا فرض ہے کہ اس تحفہ اور عظیم الشان تحفہ کے لئے جس کی قیمت دنیا کے تمام خزانوں سے بھی زیادہ ہے خدا تعالیٰ کا شکر یہ ادا کریں۔سال ایک پورا سال کوئی معمولی چیز نہیں بارہ مہینوں کا سال، پھر باون ہفتوں کا سال، جن میں سے ہر ہفتہ میں سات سات دن اور ہر دن میں چوبیس گھنٹے ہوتے ہیں اور جن میں سے ہر گھنٹہ میں ساتھ منٹ اور ہر منٹ میں ساٹھ سیکنڈ ہوتے ہیں اور سیکنڈوں کی بھی آسے تقسیم ہو سکتی ہے ان میں سے صرف ایک سیکنڈ ایسا قیمتی ہے کہ تمام دنیا کے بادشاہ اپنا سب کچھ بیچ کر بھی اسے پیدا نہیں کر سکتے اور دنیا کی تمام دولتیں اور مال ومتاع اس کا لاکھواں حصہ بھی نہیں خرید سکتیں۔پس اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ اس کی قیمت کتنی بڑی ہوگی۔ایک عظیم الشان بادشاہ بعض تدابیر میں منہمک ہے اور اس کی سیکیم پر اس کے ملک بلکہ تمام