خطبات محمود (جلد 12) — Page 487
خطبات محمود ۴۸۷ سال ۱۹۳۰ء اسلامی شعائر کی پابندی ضروری ہے (فرموده ۳۔اکتوبر ۱۹۳۰ء) ر تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : دنیا میں مختلف چیزیں مختلف حیثیتیں رکھتی ہیں کسی کی حیثیت زیادہ ہوتی ہے اور کسی کی کم اور اسی کے لحاظ سے ہم انہیں قیمتی یا کم قیمت قرار دیتے ہیں لیکن بعض اوقات کسی خاص فائدہ کو مد نظر رکھتے ہوئے بھی ایک چیز قیمتی یا غیر قیمتی قرار دے دی جاتی ہے۔ایک وقت ایک چیز جو ارزاں ہو اور سہولت سے مل سکے اور بے قیمت سمجھی جاتی ہے لیکن دوسرے وقت میں کسی خاص شخص کی ضرورت یا مہیا ہونے کی مشکلات کے لحاظ سے وہی قیمتی کبھی جائے گی۔جیسے معدنیات میں ہم سونے کو دیکھتے ہیں کہ یہ بہت قیمتی سمجھا جاتا ہے لیکن اگر کوئی شخص ایک ایسے جنگل میں پھنسا ہوا پیاس سے تڑپ رہا ہو جہاں پانی کہیں میسر نہیں آ سکتا تو اگر سونے کے پہاڑ بھی اس کے قدموں میں ڈال دیئے جائیں تو وہ ان کی کوئی قیمت نہیں سمجھے گا اور وہ پانی کہ جس کی کنووں اور نہروں والے مقامات پر کوئی قیمت نہیں ایک بے آب و گیاہ جنگل میں لاکھوں من سونے سے زیادہ قیمتی ہو جائے گا۔اسی طرح روٹی سستی چیز ہے اور کپڑا مہنگا ہے لیکن اگر کوئی شخص کسی ایسے مقام پر ہو جہاں روٹی میسر نہ آ سکے تو اُسے قیمتی سے قیمتی کپڑوں کے تھانوں سے لاد دیا جائے اور کھو اب اطلس کے ڈتیر اُس کے پاس لگا دئیے جائیں تو ان کی اس کے نزدیک کوئی حقیقت نہ ہو گی اس لئے کہ گوار زانی کے لحاظ سے روٹی کی قیمت کم ہے مگر خاص موقع پر فقدان کے باعث اس کی قیمت میں بہت اضافہ ہو جائے گا۔تو خاص حالات کے ماتحت اور خاص اوقات میں مختلف XXXX