خطبات محمود (جلد 12) — Page 479
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء چھوڑ دیں گے آؤ ہم سے اتحاد کر لو تو خواہ مجھے وہ اپنے عقائد چھوڑنے کے لئے نہ کہیں تو بھی میں ان سے کہوں گا میں تم سے اتحاد کے لئے تیار نہیں ہوں۔جب تم نے اپنے بزرگوں سے وفاداری نہ کی تو ہم سے کیا کرو گے۔پس جبکہ میں کسی مخالف سے بھی یہ امید نہیں کرتا کہ وہ اتحاد کی خاطر اپنے عقائد چھوڑ دے تو میں اپنی جماعت کو کس طرح کہہ سکتا ہوں کہ وہ اپنے عقائد کی تبلیغ نہ کرے۔مگر باوجود اس قدر وضاحت کے ساتھ بیان کر دینے کے بعض لوگوں کو دھوکا لگا ہے کہ اتحاد کی خاطر تبلیغ نہیں کرنی چاہیئے۔ایسا شخص بے حد کمزوری دکھاتا اور بڑی اصلاح کا محتاج ہے اسے چاہئے تو بہ کرے اور اس قسم کے خیال کو دل سے نکال دے۔اگر ہم دوسرے فرقوں کے ساتھ باوجود اس کے کہ وہ اپنے عقائد کی تبلیغ کریں اتحاد کے لئے تیار ہیں تو ان کا کیا بگڑتا ہے اگر ہم با وجود اپنے عقائد کی تبلیغ کے ان کے ساتھ اتحاد کریں۔پس کسی جگہ کی جماعت کو اس بارے میں کمزوری نہیں دکھانی چاہئے بلکہ تبلیغ احمدیت اسی زور سے بلکہ پہلے سے بھی زیادہ زور سے کرنی چاہئے۔بھلا غور تو کرو ہم مذہب کو کس طرح چُھپا سکتے ہیں اگر اپنے مذہب کو ہم سچا سمجھتے ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ پورے زور کے ساتھ اس کی طرف لوگوں کو بلائیں اور اسے قبول کرنے کی دعوت دیں یہ ان کے ساتھ خیر خواہی ہے نہ کہ دشمنی۔اور اگر ہم اپنے مذہب کو سچا سمجھ کر دوسروں سے چھپاتے ہیں تو ان پر ظلم کرتے ہیں لیکن اگر دنیا کی نجات، مسلمانوں کی ترقی اس میں ہے کہ احمدیت کو چھوڑ دیا جائے تو پھر ہم اس میں رہ کر لوگوں پر ظلم کرتے ہیں۔کیا یہ ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ دنیا کی اصلاح کیلئے اپنا ایک مامور بھیجے مگر اس کی تعلیم کو چھپانا لوگوں کی بھلائی کے لئے ضروری ہو اور اُسے پھیلا نا مضر ہو۔اگر یہ صورت تھی تو خدا تعالیٰ کو ما مور بھیجنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔جو شخص یہ خیال کرتا ہے وہ سخت غلطی میں پڑا ہوا ہے اور روحانی بیماری میں مبتلاء ہے جتنی جلدی ہو سکے اسے اس کا علاج کرنا چاہئے۔اور یا درکھنا چاہئے جس طرح آج سے پہلے ہمارے تبلیغی جلسے ہوتے رہے وفات مسیح علیہ السلام اور ختم نبوت پر وعظ ہوتے تھے اسی طرح آج بھی اور آئندہ بھی ہونے چاہئیں۔ہم یہ نہیں کہتے کہ ہمارے مخالف حیات مسیح کا ذکر نہ کریں وہ حیات مسیح کے ثبوت میں جو دلائل رکھتے ہیں بڑی خوشی سے پیش کریں ہم وفات مسیح کا ثبوت دیں گے۔اگر ہم یہ کہیں کہ وہ یہ نہ کہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں اور وہ کہیں کہ ہم یہ نہ کہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں تو ایک دوسرے کے لئے اتحاد کا دروازہ بند کرتے ہیں۔