خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 478

خطبات محمود خرچ کرنے کو تیار ہیں لیکن اگر ایسا ہو کہ اس کام میں حصہ لینا ہمارے اصل مقصد میں روک ہو جائے، ہمارے اصل فرض میں کمزوری پیدا کر دے تو ہم اس کا خیال چھوڑ دیں گے اور اصل کام کو جو خدا تعالیٰ نے مقرر کیا ہے مقدم کر لیں گے۔مگر باوجود اس کے کہ متواتر میں نے اس طرف توجہ دلائی ہے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض جماعتیں اور بعض افراد اس حقیقت کو نہیں سمجھ سکے۔۱۹۲۷ء میں میں نے جب یہ تحریک کی تو خبر آئی تھی کہ بعض جماعتیں اور بعض افراد تبلیغ احمدیت میں کمزوری دکھا رہے ہیں۔بعض لوگوں کے دلوں میں یہ وسوسہ پیدا ہو رہا ہے کہ اگر ہم تبلیغ احمدیت کریں گے تو لوگ ہمارے ساتھ نہیں ملیں گے۔حالانکہ اگر لوگ مشتر کہ امور میں اس لئے ہمارے ساتھ نہیں ملتے کہ ہم اپنے مذہب کو پھیلاتے اور اپنے عقائد کی تبلیغ کرتے ہیں تو ایسے لوگوں سے ہمیں اتحاد کی ضرورت نہیں ہے۔ہم اہلحدیث سے بھی یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ ہم سے اتحاد کے لئے اپنے عقائد چھوڑ دیں اور ان کی تبلیغ نہ کریں نہ کبھی ہم حنفیوں سے یہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے عقائد چھوڑ کر اتحاد میں شریک ہوں۔ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں اگر حنفی اپنے عقائد کی تبلیغ کریں اور ثابت کریں کہ جو عقائد ان کے ہیں وہ درست ہیں۔نہ صرف ہم اس کے خلاف نہیں ہوں گے بلکہ ان کے دلائل بشاشت سے سننے کے لئے تیار ہیں۔اسی طرح ہم اہلحدیث سے یہ نہیں کہتے کہ اپنا کوئی عقیدہ چھپائیں یا اُسے پھیلا ئیں نہیں اگر وہ پہلے سے بھی زیادہ زور کے ساتھ اپنے عقائد کی اشاعت کریں بشرطیکہ ضد اور تعصب سے کام نہ لیں گالی گلوچ نہ کریں تو نہ صرف ہمیں ان پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا بلکہ خوشی سے ان کی مجالس میں جا کر باتیں سننے کے لئے تیار ہیں۔پس ہم کسی فرقہ سے یہ نہیں کہتے کہ وہ اپنے مذہب کی تبلیغ چھوڑ دے یا اپنے عقائد کو چھپائے اس لئے اگر کوئی قوم اشارہ بھی ہم سے یہ مطالبہ کرے کہ ہم تبلیغ احمدیت چھوڑ دیں تو ہم ایسے لوگوں سے اتحاد کی کوئی پرواہ نہیں کریں گے۔اگر مذہب میں دخل اندازی کے معنے اتحاد ہیں تو اس اتحاد کو ہم نے مدت سے چھوڑا ہوا ہے۔ہم تو اتحاد کی تعریف ہی یہ کرتے ہیں کہ اس میں مذہب کا تعلق نہیں ہو گا بلکہ یہ تمدنی ، سیاسی اور ملکی اتحاد ہے۔اس اتحاد میں ہم شریک ہونا چاہتے اور دوسروں کو شریک کرنا چاہتے ہیں ورنہ ہم کسی ایسے سمجھوتے کو لعنت سمجھتے ہیں جس میں سچائی کو چھپانے کا اقرار کرنا پڑے۔ہم دوسروں کے لئے بھی پسند نہیں کرتے کہ وہ اپنے عقائد چھپائیں کجا یہ کہ اپنے عقائد چھپائیں۔حتی کہ مجھ سے اگر اہلحدیث آ کر کہیں کہ ہم اپنے عقائد کی تبلیغ