خطبات محمود (جلد 12) — Page 470
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء انہوں نے وہ فتنہ کھڑا کرایا جو فتنہ مستریاں کے نام سے موسوم ہے۔یہ دیکھ کر ہم خاموش ہو گئے اور کہہ دیا کہ یہ میدان تم خود ہی سنبھالو۔اس کے بعد کئی واقعات ظہور پذیر ہوئے مگر میں نے رائے کا اظہار نہ کیا کیونکہ میں نے دیکھا ہمارے آگے آنے سے خود ان کے اندر لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔شاید ہم الگ رہیں تو ان میں اتحاد پیدا ہو جائے مگر اس تین سال کے عرصہ میں یہ تحریک اتحاد بڑھنے کی بجائے کمزور ہوگئی ہے۔پشاور کا واقعہ بہت اہم تھا مگر اس کی طرف جو توجہ کی جانی چاہئے تھی اس کا ۱/۱۰ حصہ بھی نہ کی گئی۔اب ایک اور نیا واقعہ ہوا ہے جو فردی نہیں بلکہ ہمیں معلوم ہے کہ دیر سے اس کا آغاز ہو چکا ہے اور اگر چہ مسلمانوں کو اس کا علم بھی ہو پھر بھی انہوں نے کچھ نہیں کیا۔دیر سے افواہ ہے کہ ضلع حصار میں کئی ہندو ایسے کھڑے ہو گئے ہیں جنہوں نے قسمیں کھا رکھی ہیں کہ جہاں کہیں کسی مسلمان پر ان کا قابو چلے گا اسے ماردیں گے یا کوٹ لیں گے گویا بعینہ وہ اسی طرح کرنا چاہتے ہیں جیسے سیوا جی نے کیا یا جو سکھوں کی شورش کے ایام میں ہوا۔اکیلے دو کیلئے مسلمانوں کو مار دیا جاتا ہے یا کوٹ لیا جاتا ہے۔اس علاقہ کو اس مار دھاڑ کے لئے اس واسطے چُنا گیا ہے کہ وہاں ہندو زیادہ تعداد میں آباد ہیں اور یہ تجربہ ہو رہا ہے کہ کیا مسلمان اسے برداشت کریں گے یا نہیں کہ انہیں ہندوستان سے مٹا دیا جائے اور آیا ان کے خون کی کوئی قیمت ہے یا نہیں۔اگر ہے تو کچھ عرصہ تک انتظار کر کے مسلمانوں کو اور بے غیرت بنانے کی کوشش کی جائے۔اور اگر پچھلی کوششیں کامیاب ہو چکی ہیں تو پھر انہیں مٹادیا جائے۔یہ جذبہ ہے جو ضلع حصار کے فسادات کے پیچھے کام کر رہا ہے وگر نہ وہاں کون سی ایسی نئی بات ہے جو اور جگہ کے مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی۔اور حصار کے مسلمان کون سی ایسی حرکت کرتے ہیں جو بٹالہ گورداسپور لا ہور پشاور وغیرہ دیگر مقامات پر بسنے والے مسلمان نہیں کرتے۔اگر ضلع حصار کے مسلمان گائے ذبح کرتے ہیں تو سارے ہندوستان کے مسلمان ایسا کرتے ہیں۔اگر وہ نماز پڑھتے ہیں تو سب جگہ ہی پڑھی جاتی ہے۔اگر وہ اذان دیتے ہیں تو سب مسلمان ایسا کرتے ہیں بلکہ نماز اور اذان وغیرہ امور میں تو وہ شاید دوسرے مسلمانوں سے بہت پیچھے ہی ہوں۔پھر سوچنے کی بات ہے کہ انہوں نے کیا قصور کیا ہے جس کی وجہ سے یہ سارا و بال ان پر پڑ رہا ہے۔اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہاں مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے۔سکھوں کے زمانہ میں بھی جب شورش ہوئی تو پہلے انہی اضلاع سے اس کا آغاز ہوا تھا جہاں