خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 469

خطبات محمود ۴۶۹ سال ۱۹۳۰ء تمام ہند ولیڈ روہاں پہنچ جاتے مگر مسلمانوں میں سے کوئی لیڈ روہاں نہ پہنچا۔اخبارات نے بیشک ان کی تائید کی لیکن مسلم اخبارات کی حالت ابھی ایسی ترقی یافتہ نہیں کہ تمام حلقوں میں اپنی آواز پہنچا سکیں۔پٹھانوں کے اندر جنبہ داری کا خیال بہت راسخ ہوتا ہے اور اس کے ماتحت وہ بعض شدید مذہبی اختلافات کو بھی بھول جاتے ہیں۔کئی مرتبہ ایک قبیلہ کی دوسرے قبیلہ سے محض اس وجہ سے لڑائی ہو جاتی ہے کہ ہمارے قبیلہ میں رہنے والے ہندو کو تمہارے کسی آدمی نے کیوں چھیڑا۔گویا بالکل ویسی ہی ان کی عادت ہے جیسی عربوں کی تھی۔کہتے ہیں ایک شخص کے کھیت میں ایک کتیا نے بچے دیے ہوئے تھے کسی کے مہمان کی اونٹنی کے پاؤں سے ان میں سے ایک گچلا گیا اس پر قبائل میں جنگ شروع ہو گئی۔ایسی طاقت کو اگر صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو ملک و قوم کے لئے بہت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔چنانچہ انہی عربوں سے رسول کریم ﷺ نے دنیا کی کایا پلٹ کر رکھ دی تو یہ جذ بہ نہایت عمدہ جذبہ ہوتا ہے بشرطیکہ اس سے صحیح طور پر کام لیا جائے۔اگر اس مصیبت کے وقت تمام ہندوستان کے مسلمان ان کی مدد کے لئے کھڑے ہو جاتے تو بہت ہی مفید ہوتا اور ان کے تعلقات ہندوستان کے مسلمانوں سے نہایت مضبوط ہو جاتے۔یہ نہیں کہ انہوں نے غلطیاں نہ کیں ان سے بھی غلطیاں ہوئیں اور ہم نے ان کی کئی غلطیاں ان کو بتائیں اور نصیحت کر دی آگے ماننا یا نہ ماننا ان کا کام ہے۔لیکن جس حصہ میں ان پر سختی ہوئی اس میں ہم نے ان کو مالی امداد بھی دی اپنے آدمی بھی ان سے ہمدردی کے لئے بھیجے اور گورنمنٹ کو بھی توجہ دلائی۔اگر یہی طریق سارے ہندوستان کے مسلمان اختیار کرتے تو ہر افغان کا دل جذبات تشکر سے بھر جاتا اور وہ سمجھتا میں ایک ہندوستانی مسلمان ہوں اور آٹھ کروڑ مسلمانوں میں شامل ہوں۔یہ بات اسے باقی مسلمانوں سے اس قدر قریب کر دیتی جس کا واہمہ بھی نہیں ہو سکتا لیکن افسوس کہ مسلمانوں کی طرف سے ایسا نہ کیا گیا۔۱۹۲۷ء میں لاہور میں جب چند بے گناہ مسلمان مارے گئے تو میں نے ان کی حمایت میں آواز بلند کی اور مسلمانوں کو ایسے مصائب کے وقت متحد ہونے کی طرف توجہ دلائی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملک کے ایک سرے سے لیکر دوسرے سرے تک ایک آگ لگ گئی اور مسلمان ایک دوسرے کو اپنے جسم کا حصہ سمجھنے لگ گئے۔لیکن بعض وہ لوگ جنہیں یہ اتحاد گوارا نہیں تھا یا وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ اتحاد احمد یوں یا مبائعین کے ذریعہ قائم ہو انہوں نے سمجھا یہ تو لیڈر بننے لگے ہیں ہمیں کون پوچھے گا اس خیال سے اس اتحاد کو تباہ کرنے کیلئے