خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 431

خطبات محمود اسم سال اللہ تعالیٰ نے ان کی گردنوں کو ایسا جھٹکا دیا کہ ان کے ذہنوں کے کسی گوشہ میں بھی ہماری کوئی یاد باقی نہ رہی۔اب غور کرو بھلا ہم کب ایسا کر سکتے تھے خدا تعالیٰ نے یہ سب کچھ ایسے رنگ میں کیا کہ اس سے ہمارے خلاف بھی کوئی جوش نہیں پیدا ہوا اگر ہماری وجہ سے ایسا ہوتا تو شور مچا دیا جاتا کہ مجسٹریٹ کو کہہ دیا ہو گا با رسوخ آدمی ہیں رشوت دے دی ہو گئی ان کے پاس بڑا روپیہ ہے یا یہ کہ بڑے آدمی ہیں گورنمنٹ ان کا لحاظ کرتی ہے اور اسی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا ہے لیکن اب خدا تعالیٰ نے انہیں ایسا پکڑا ہے کہ ان کے لئے بہانے بنانے کا کوئی موقع ہی نہیں باقی رہا۔اللہ تعالیٰ کی سزائیں ایسی ہوتی ہیں کہ کوئی حرف گیری بھی نہیں کر سکتا۔ہمارا خود کرنا تو الگ رہا اگر کسی کام میں ہمارا ہاتھ بھی ثابت نہ ہو تب بھی لوگ شور مچا دیتے ہیں کہ سب کچھ ان کی وجہ سے ہی ہوا اس لئے اس معاملہ کو بھی ہم اللہ تعالیٰ پر ہی چھوڑتے ہیں ہاں ہمیں یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ ہم اس کو واقعہ سے کتنے سبق حاصل کر سکتے ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دنیا کی ساری چیزوں میں تمہارے لئے نشان ہیں اس لئے یقیناً اس میں بھی ہمارے لئے نشان ہوں گے۔اس کے متعلق سب سے بڑی چیز جو میں دیکھتا ہوں وہ یہ ہے کہ دشمنوں نے ہماری خانگی زندگی کے متعلق - اعتراضات کئے اور یہ اعتراضات ایسے ہوتے ہیں جن کا غلط ثابت کرنا سخت مشکل ہوتا ہے۔اور ہمارے معاملہ میں تو انہوں نے دنیا کے عام اصول کو بھی نظر انداز کر دیا۔عام طور پر دنیا میں یہی اصل ہے کہ الزام لگانے والے کے ذمہ ثبوت ہوتا ہے لیکن ہماری مخالفت میں یہ لوگ ایسے اندھے ہو گئے تھے کہ ہم پر ہی الزام لگائے جاتے تھے اور ہمیں ہی کہا جاتا تھا کہ ثبوت دو یہ غلط ہیں۔گویا روز مرہ کی گفتگو اور طرز عمل، عقل و فہم، علم اور منطق وغیرہ سب سے کورے ہو کر ہم پر ہی یہ جرح کرتے تھے کہ ثبوت لاؤ کہ تم بچے ہو۔جو باتیں گھروں سے تعلق رکھتی ہیں ان کا انسان کیا ثبوت دے سکتا ہے۔مگر وہ لوگ یہی پیش کرتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے جھوٹے ہونے کا ثبوت ایسے رنگ میں مہیا کر دیا جس سے انکار کسی صورت میں بھی نہیں ہوسکتا۔یعنی انہوں نے ایک ایسی خبر شائع کرائی جس کے متعلق انہیں پوری طرح علم تھا کہ کل ہی بلکہ گھڑی دو گھڑی بعد ہی غلط ثابت ہو جائے گی۔اس لئے غور کرنا چاہئے کہ جو ایسے موقع پر بھی جھوٹ بولنے سے باز نہیں رہ سکتا جہاں اس کے جھوٹ کا بہت جلد ظاہر ہو جانا یقینی ہے وہ دوسرے مواقع پر جب جھوٹ کا جند ظا ہر ہو جا نا یقینی نہیں ہوتا کب باز رہ سکتا ہے۔پس اس سے ایک بات یہ ثابت ہوتی ہے کہ ہم