خطبات محمود (جلد 12) — Page 425
خطبات محمود ۴۲۵ سال ۱۹۳۰ء جائیں گے اس سے بھی ملک کو نقصان ہی پہنچے گا۔پھر مشینوں پر ہندوستان کا کروڑوں روپیہ خرچ آچکا ہے یورپ والے تو یہ بات دل سے چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے کارخانے بند اور مشینیں رڈی ہو جائیں اور اس کے مقابلہ میں انہیں اگر ایک دو سال کیلئے خود بھی نقصان اُٹھانا پڑے یعنی ان کا مال ہندوستان میں نہ پک سکے تو اس کی انہیں پرواہ نہیں ہوگی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ سب لوگ ہمیشہ کیلئے کھڈ رنہیں پہن سکتے۔اور اگر ہندوستان کے کارخانے تباہ ہو گئے تو پھر ہندوستان ہم سے ہی کپڑا خرید نے پر مجبور ہوگا۔پس اس تحریک سے سراسر نقصان ہی نقصان ہے۔مسلمانوں کو بھی اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا اور ملک کو بھی نہیں۔ہاں سودیشی اشیاء کے استعمال کی تحریک اگر کی جائے تو وہ مفید ہو سکتی ہے۔اس کے بعد میں ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں۔ایک دوست نے لکھا ہے کہ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں احمدیوں نے بھی تو قادیان میں ہندوؤں کا بائیکاٹ کر رکھا ہے مگر یہ بات بالکل غلط ہے احمدیوں نے کبھی کسی کا بائیکاٹ نہیں کیا۔ہندوؤں نے ایک دفعہ کسی بات پر ناراض ہو کر ایک دکان کا سامان باہر پھینک دیا ہڑتال کر دی اور کہہ دیا تھا کہ احمدیوں نے ہمیں کوٹ لیا ہے۔اس پر میں نے خیال کیا کہ اگر احمدی ان لوگوں سے خرید و فروخت کریں گے تو ایسے ہی کسی اور جھگڑے کا احتمال ہے محض اس فتنہ کو روکنے کیلئے میں نے ان کی دُکانوں سے سودا وغیرہ لینے سے منع کر دیا تا کہ نہ احمدی ان کی دکانوں پر جا کر کھڑے ہوں اور نہ انہیں اس قسم کا فتنہ کھڑا کرنے کا موقع مل سکے۔بس اتنی بات ہے وگر نہ ہندوؤں کا بائیکاٹ ہم نے کبھی نہیں کیا۔اگر بائیکاٹ کرنا ہوتا تو صرف قادیان میں ہی کیوں کرتے باہر لاہور اور امرتسر اور دیگر مقامات پر ہندوؤں سے سودا وغیرہ خریدنے کی ممانعت کیوں نہ کرتے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ہرگز بائیکاٹ نہیں ہے بلکہ محض جھگڑے سے بچنے کیلئے ایسا کیا گیا۔کیونکہ میں نے محسوس کیا یہاں کے ہندوؤں کی دماغی کیفیت ایسی ہو چکی ہے کہ وہ ہمارے مقابلہ میں ناجائز ذرائع بھی اختیار کر لیتے ہیں اس لئے میں نے اعلان کر دیا کہ احمدی ان کی دکانوں پر نہ جائیں وگرنہ ہم بائیکاٹ نہیں کرتے۔اب بھی اگر باہر کی ذمہ دار ہندو جماعتیں مجھے اطمینان دلا دیں کہ آئندہ یہاں کے ہندوؤں کی طرف سے ایسی شرارت نہ ہوگی اور اس بات کی ضمانت دینے والے ہندو قوم کے معززین ہوں تو میں اُسی وقت اعلان کر دوں گا کہ ان سے حسب سابق خرید وفروخت کی جائے۔