خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 404

خطبات محمود ۴۰۴ بال ۱۹۳۰ء آم خربوزوں اور دیگر پھلوں سے ناک تک پیٹ بھر لو دودھ کے پیالوں پر پیالے پیئے جاؤ۔میرا خیال ہے کہ اگر کہا جائے ہم ایسے روزے رکھواتے ہیں تو کئی لوگ ایک ایک مہینہ کا روزہ بھی رکھنے والے مل جائیں گے۔تو یہ کوئی عبادتیں نہیں ہیں۔باقی رہیں سادھوؤں کی ریاضتیں سو وہ سب پر فرض نہیں اور نہ ہی انہیں قومی عبادت کہا جا سکتا ہے وہ مرضی کی بات ہے جو برداشت کر سکے کرے وگرنہ کوئی ضروری نہیں۔مگر روزہ اور نماز وغیرہ اسلامی عبادات وہ عبادات ہیں جو ہر مسلم پر فرض ہیں جو انہیں بجا نہیں لاتا وہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔مگر ہندوؤں میں سادھوؤں کی ریاضتوں کو اگر ہر کوئی نہ ادا کرے تو وہ بدستور ہندو ر ہے گا ہاں سادھو نہیں ہوگا۔ان دونوں مذاہب کی بیان کر وہ بزرگی کی صفات میں بھی عظیم الشان فرق ہے۔رسول کریم نے تو اپنی اولاد کے لئے صدقہ حرام کر دیا۔ہے مگر ہندوؤں میں یہ حکم ہے کہ برہمن کو اتنا کھلاؤ کہ وہ کھاتے کھاتے مر جائے اس میں تمہاری نجات ہے۔پس غور کرو وہ عبادت ہے یا یہ۔حقیقی عبادت اسلام کی ہے اس لئے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلا لِيَعْبُدُونِ کے ماتحت سچا مذہب اسلام ہی ہو سکتا ہے۔موجودہ زمانہ میں اسلام کے لئے اگر ایک طرف خطرات اتنے خطرناک ہیں کہ تمام سابقہ انبیاء ان سے ڈراتے آئے ہیں تو دوسری طرف وہ چیز جس کی حفاظت ہمارے سپرد کی گئی ہے اس قدر اہم ہے کہ انسان کی پیدائش کا مقصد ہی وہی ہے۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے سوا اور بھی مسلمان ہیں جن کے ذمہ یہ فرض ہے۔دنیا میں بے شک اور مسلمان ہیں مگر ہمارے سوا کسی کے سپرد یہ کام خاص طور پر نہیں کیا گیا۔اگر ان کے سپرد ہوتا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آنے کی کیا ضرورت تھی۔یا د رکھو کہ جو قوم دوسروں پر بھروسہ کر کے کامیاب ہونا چاہتی ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی اور اس کی مثال کشمیریوں کی ہے۔اصل کشمیری قوم میں لڑائی کا مادہ نہیں ہوتا پنجاب میں بود و باش رکھنے والے کشمیری تو آزادی میں رہنے کی وجہ سے ایسے نہیں رہے لیکن کشمیر کے رہنے والے کشمیری سوائے بعض پہاڑی علاقوں کے جنگجو نہیں ہوتے۔انگریز جب پہلے پہل ہندوستان میں آئے تو انہوں نے ہر قوم کی ایک فوج تیار کرنے کی کوشش کی اور کشمیریوں کی بھی ایک پلیٹن بنائی۔ایک دفعہ سرحد پر فوج بھیجنے کی ضرورت پیش آئی کمانڈنگ آفیسر نے کشمیری عہدیدار کو بلا کر وہاں جانے کا حکم دیا تو اس نے کہا حضور یہ تو مشکل ہے پٹھان لوگ سخت ہوتے ہیں لیکن اس نے ڈانٹا اور کہا تم تنخواہ کس بات کی لیتے ہو