خطبات محمود (جلد 12) — Page 390
خطبات محمود ٣٩٠ سال ۱۹۳۰ء غرض یہ فیصلہ مسلمانوں کے لئے مفید نہیں بلکہ دھوکا ہے اور جو لوگ اس پر خاموش ہو رہے ہیں وہ اپنی نادانی کا ثبوت پیش کر رہے ہیں۔ذرا غور تو کریں کون سے طریق سے مسلمان ثابت کر سکیں گے کہ سندھ صوبہ سرحد پنجاب اور بنگال میں ہندو اقلیت میں نہیں اور پھر وہ کونسا طریق اختیار کریں گے جس سے ہندوؤں کو راضی کر لیں گے۔اس فیصلہ کے تو یہ معنی ہیں کہ پنجاب بنگال سندھ صوبہ سرحد میں جب تک ہندو راضی نہ ہوں گے کوئی اختیارات نہ دیئے جائیں گے یہ صورت تو پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔مسلمانوں کے لئے بہترین صورت یہی ہے کہ وہ قانون شکنی کا مقابلہ کریں اور ادھر گورنمنٹ سے اپنے مطالبات پورے کرانے پر قانون کے اندر رہ کر زور دیں اور ثابت کر دیں کہ ہم ایسے ہی ملک کی آزادی کے خواہاں ہیں جیسے ہندو۔اور اس بات کو جاری رکھیں جب تک اپنے حقوق حاصل نہ کر لیں۔میں اس وقت اپنی جماعت سے یہی کہنا چاہتا ہوں کہ قانون شکنی کا مقابلہ کیا جائے ہر شہر ہر ! گاؤں اور ہر قصبہ کی جماعت اعلان کرائے کہ وہ قانون کا احترام قائم کرنے کے لئے گورنمنٹ کے ساتھ پورا پورا تعاون کرے گی کیونکہ قانون توڑنے سے شریعت بھی ٹوٹ جاتی ہے اور ملک کا امن بھی برباد ہو جاتا ہے۔پس میں اپنی جماعت کے لئے اعلان کرتا ہوں کہ وہ اپنی سابقہ روایت کو قائم رکھے جو حضرت مسیح موعود کے وقت سے چلی آتی ہے اور اس سے پیاری روایت ہمارے لئے اور کونسی ہو سکتی ہے جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عمل کیا۔پس چاہئے کہ ہر جگہ اور ہر علاقہ کی جماعتیں قانون شکنی کا مقابلہ کریں اور اس طرح گورنمنٹ کو امن قائم کرنے میں مدد دیں مگر اس کے ساتھ ہی صاف طور پر کھول کر کہہ دیں کہ ہم یہ نہیں چاہتے کہ ہمارا ملک غلام رہے ہم اپنے اور مسلمانوں کے حقوق کا مطالبہ کرتے رہیں گے اور انہیں حاصل کریں گے۔گورنمنٹ اعلان کر چکی ہے کہ اہلِ ہند کو آزادی دی جائے گی ہم اس وعدہ کے پورا کرنے کا اس سے مطالبہ کرتے ہیں۔پس جماعت کو ایک طرف تو مسلمانوں کے حقوق کی خصوصاً اور ملک کے حقوق کی عموماً تائید کرنی چاہئے اور دوسری طرف قانون شکنی کرنے والوں کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ایسے لوگ ملک کے خیر خواہ نہیں بلکہ دشمن ہیں ان کا مقابلہ ضروری ہے تا کہ وہ روح کچلی جائے جو ملک کی آزادی کو کچلنے والی ہے۔